براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 368
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۶۸ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم بخل اور نا سمجھی کی راہ سے ایسے اعتراض بھی میری نسبت شائع کئے ہیں ۔ جن سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ وہ لوگ جس قدر اپنی دنیا کے فراہم کرنے کے لئے اور دنیوی منصب اور عہدے پانے کے لئے کوشش کرتے ہیں اُس کا ہزارم حصہ بھی دین کی طرف اُن کو توجہ نہیں اُن کے اعتراضات سن کر نہایت درجہ کی حیرت پیدا ہوتی ہے کہ یہ لوگ مسلمان کہلا کر اسلام سے بالکل بے خبر ہیں۔ بھلا غور کرنا چاہیے کہ یہ اعتراضات اُن کے کسی قسم کے ہیں ۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک منصوبہ ہے جو روپیہ جمع کرنے کے لئے بنایا گیا ہے اور اس کے معاون تنخواہیں پاتے ہیں۔ اب وہ حص وہ شخص جو دل میں کچھ خدا تعا کچھ خدا تعالیٰ کا خوف رکھتا ۔ اہے سوچ لے کہ کیا یہ وہی بدظنی نہیں جو قدیم سے دلوں کے اندھے انبیاء علیہم السلام پر کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے حضرت موسیٰ پر بھی بدظنی کی اور اپنے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اس شخص کا اصل مطلب یہ ہے کہ تم لوگوں کو زمین سے بے دخل کر کے خود قابض ہو جائے ایسا ہی یہودیوں نے حضرت عیسی کی نسبت یہی رائے قائم کی کہ یہ شخص مکار ہے اور نبوت کے بہانہ سے ہم لوگوں پر حکومت کرنا چاہتا ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کفار قریش نے بھی یہی بدظنی کی جیسا کہ قرآن شریف میں اُن کا مقولہ یہ لکھا ہے إِنَّ هَذَا لَشَيْءٍ يُرَادُے یعنی اس دعوے میں تو کوئی نفسانی مطلب ہے۔ سوایسے اعتراض کرنے والوں پر ہم کیا افسوس کریں ۔ وہ پہلے منکرین کی عادت دکھلا رہے ہیں۔ طالب حق کی یہ عادت ہونی چاہیے کہ وہ دعوی کو غور سے دیکھے اور دلائل پر دلی انصاف سے نظر ڈالے اور وہ بات منہ پر لاوے جو عقل اور خدا ترسی اور انصاف کا مقتضا ہے نہ یہ که قبل از تحقیق یہ کہنا شروع کر دے کہ یہ سب کچھ مال کمانے کے لئے ایک مکر بنایا گیا ہے۔ پھر ایک یہ بھی اُن کا اعتراض ہے کہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں۔اس اعتراض کے جواب ۱۹۷ میں تو صرف اس قدر لکھنا کافی ہے کہ لعنة الله علی الکاذبین۔ اگر وہ میری کتابوں کو غور سے دیکھتے یا میری جماعت کے اہل علم اور واقفیت سے دریافت کرتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ کئی ہزار پیشگوئی اب تک پوری ہو چکی ہے اور ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے صرف ایک دو گواہ اص :