براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 367

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۶۷ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم جس سے علمی ترقی ہوئی ہے۔ پس کیا گمان ہو سکتا ہے کہ وہ خدا جو علم کی ترغیب دیتا ہے وہ ایسے آلہ کا استعمال کرنا حرام قرار دے جس کے ذریعہ سے بڑے بڑے مشکل امراض کی تشخیص ہوتی ہے اور اہل فراست کے لئے ہدایت پانے کا ایک ذریعہ ہو جاتا ہے۔ یہ تمام جہالتیں ہیں جو پھیل گئی ہیں۔ ہمارے ملک کے مولوی چہرہ شاہی سکہ کے روپیہ اور دونیاں اور چونیاں اور اٹھنیاں اپنی جیبوں اور گھروں میں سے کیوں باہر نہیں پھینکتے ۔ کیا ان سکوں پر تصویریں نہیں ۔ افسوس کہ یہ لوگ ناحق خلاف معقول باتیں کر کے مخالفوں کو اسلام پر ہنسی کا موقع دیتے ہیں ۔ اسلام نے تمام لغو کام اور ایسے کام جو شرک کے مؤید ہیں حرام کئے ہیں نہ ایسے کام جو انسانی علم کو ترقی دیتے اور امراض کی شناخت کا ذریعہ ٹھہرتے اور اہل فراست کو ہدایت سے قریب کر دیتے ہیں۔ لیکن با ایں ہمہ میں ہرگز پسند نہیں کرتا کہ میری جماعت کے لوگ بغیر ایسی ضرورت کے ج کے جو کہ مضطر کرتی ہے وہ میرے فوٹو کو عام طور پر شائع کرنا اپنا کسب اور پیشہ بنالیں۔ کیونکہ اسی طرح رفتہ رفتہ بدعات پیدا ہو جاتی ہیں اور شرک تک پہنچتی ہیں۔ اس لئے میں اپنی جماعت کو اس جگہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں تک اُن کے لئے ممکن ہو ایسے کاموں سے دستکش رہیں۔ بعض صاحبوں کے میں نے کارڈ دیکھے ہیں اور ان کی پشت کے کنارہ پر اپنی یکھی ہے۔ میں ایسی اشاعت کا سخت مخالف ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی شخص ہماری جماعت میں سے ایسے کام کا مرتکب ہو۔ ایک صحیح اور مفید غرض کے لئے کام کرنا اور امر ہے اور ہندوؤں کی طرح جو اپنے بزرگوں کی تصویریں جا بجا در و دیوار پر نصب کرتے ہیں یہ اور بات ہے۔ ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے لغو کام منجر بشرک ہو جاتے ہیں اور بڑی بڑی خرابیاں ان سے پیدا ہوتی ہیں جیسا کہ ہندوؤں اور نصاری میں پیدا ہو گئیں اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ جو شخص میرے نصائح کو عظمت اور عزت کی نظر سے دیکھتا ہے اور میرا سچا پیرو ہے وہ اس حکم کے بعد ایسے کاموں سے دستکش رہے گا ورنہ وہ میری ہدایتوں کے برخلاف اپنے تئیں چلاتا ہے اور تصویر شریعت کی راہ میں گستاخی سے قدم رکھتا ہے۔ بعض ایسے لوگوں نے جن کو نہ دین کی کچھ خبر ہے اور نہ میرے حالات سے کچھ اطلار سے کچھ اطلاع محض ۱۹۶