براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 315

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۱۵ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم اور راتوں کو اُٹھ کر نماز میں دعائیں کریں اور روئیں اور نعرے ماریں تو اُمید ہے کہ خدائے کریم ان پر ظاہر کر دے کہ میں کون ہوں چاہیے کہ خدا کے استغناء ذاتی سے ڈریں۔ جب یہودیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول نہ کیا اور تعصب اور کینہ سے باز نہ آئے تو خدا نے اُن کے دلوں پر مہریں لگا دیں اور باوجود اس کے کہ صدہا اُن میں فقیہ اور فریسی تھے اور توریت کے عالم اور فاضل تھے تا ہم وہ نہ حقیقت کو سمجھ سکے اور نہ خدا نے کسی خواب یا الہام کے ذریعہ سے اُن پر حق ظاہر کیا۔ پس چونکہ اس اُمت کا بھی انہیں کے قدم پر قدم ہے اس لئے ان کی ہرگز آنکھ نہیں کھل سکتی اور نہ وہ مجھے شناخت کر سکتے ہیں جب تک کہ سچا تقویٰ اُن کے نصیب نہ ہو۔ منہ کی فضولیوں پر خدا راضی نہیں ہوتا اس کی دلوں پر نظر ہے ہر ایک جو اپنی کسی خیانت کو چھپاتا ہے وہ اس کی عمیق نظر سے چھپا نہیں سکتا ۔ متقی وہی ہے جو خدا کی شہادتوں سے متقی ثابت ہو کیونکہ متقی خدا کی کنار عاطفت میں ایسا ہوتا ہے جیسا کہ ایک پیارا بچہ اپنی ماں کی گود میں ۔ دنیا اس کو ہلاک کرنے کے لئے اُس پر ٹوٹ پڑتی ہے اور درو دیوار اس پر نیش زنی کرتے ہیں لیکن خدا اُس کو بچا لیتا ہے اور جیسا کہ سورج جب نکلتا ہے تو کھلی کھلی کرنیں اُس کی زمین پر گرتی ہیں ایسا ہی خدا تعالیٰ کی تائیدیں اور نصرتیں کھلے طور پر منتقی کے شامل حال ہوتی ہیں۔ وہ اُس کے دشمنوں کا دشمن ہو جاتا ہے اور ان کی آنکھوں کے سامنے متقی کو عزت دیتا ہے جس کی ذلت وہ چاہتے تھے۔ وہ نہ ضائع ہوتا اور نہ برباد ہوتا ہے جب تک کہ اپنا کام کو پورا نہ کرلے اور اُس کی مخالفت ایک تیز تلوار کی دھار پر ہاتھ مارنا ہے۔ ترى نصر ربي كيف يأتي و يظهر و يسعى الينا كل من هو يبصر میرے خدا کی مدد کوتو دیکھتا ہے کیونکر آ رہی اور ظاہر ہورہی ہے اور ہر ایک جو آنکھیں رکھتا ہے ہماری طرف دوڑتا چلا آتا ہے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے اپنے “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)