براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 289

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۸۹ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم کی کتاب میں اس کے نازل ہونے کا وعدہ تھا پھر بھی نازل نہ ہو سکا اور حضرت عیسیٰ کو یہودیوں کے مقابل پر شرمندگی اٹھانی پڑی اور آخریجی نبی کو الیاس نبی کا مثیل ٹھہرا کر یہودیوں کے بکواس سے پیچھا چھڑایا۔ خیال کرنا چاہیے کہ کس قدر عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں کی اس حجت بازی سے دُکھ پہنچتا ہو گا جب کہ وہ بار بار کہتے تھے کہ تو کس طرح سچا مسیح موعود ہو سکتا ہے جب کہ تجھ میں مسیح موعود کے علامات نہیں پائے جاتے کیونکہ خدا کی کتاب صاف لفظوں میں کہتی ہے کہ مسیح موعود نہیں آئے گا جب تک پہلے اس سے الیاس نبی دوبارہ دنیا میں نہ آ جائے ۔ اس حجت میں بظاہر ۱۲۳ یہودی سچے تھے کیونکہ الیاس آسمان سے نازل نہیں ہوا تھا اور نہ اب تک آسمان سے نازل ہوا۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس قدر یہودیوں نے شرارتوں اور گستاخیوں میں دلیری کی اس کی یہی وجہ تھی کہ ظاہر الفاظ کتاب اللہ کے لحاظ سے جو مسیح موعود کی علامت تھی وہ علامت حضرت مسیح میں پائی نہ گئی اور حضرت مسیح اپنے دل میں سمجھ چکے تھے کہ میرا جواب صرف تاویلی ہے جس کو یہود قبول نہیں کریں گے اس لئے انہوں نے نرم لفظوں میں کہا کہ جو الیاس دوبارہ دنیا میں آنا تھا وہ یہی کی بن زکریا ہے چاہو تو قبول کرو ۔ ایسا ہی آسمان پر چڑھنے اور اُترنے کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ مانگا گیا تھا جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے۔ آخر ان کو صاف جواب ب دیا گیا اور خدا تعالیٰ نے فرمایا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا اور عیسائیوں کو یہودی اب تک تنگ کیا کرتے ہیں کہ اگر عیسیٰ حقیقت میں مسیح موعود تھا تو کیوں الیاس نبی پہلے اس سے نازل نہ ہوا۔ عیسائی ہمیشہ اس اعتراض سے لا جواب رہتے ہیں اور ان کے سامنے بات نہیں کر سکتے ۔ سو ہمارے مخالفوں کو الیاس نبی کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی سے سبق حاصل کرنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ یہودیوں کی طرح ان کا انجام ہو مگر مماثلت پوری کرنے کے لئے یہ بھی ضروری تھا کہ جیسا کہ اُن سے پہلے یہودیوں نے حضرت الیاس کے دوبارہ آنے کے بارہ میں حضرت عیسی ا بنی اسرائیل : ۹۴