براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 288
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۸۸ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم تصریح اور وضاحت سے الیاس نبی کے دوبارہ آنے کی قبل از مسیح موعود ہمیں خبر ملی ہے جس کی کوئی تاویل نہیں ہو سکتی تو پھر اگر ہم تکلف سے صرف عن الظاھر کر کے اس پیشگوئی کی کچھ تاویل کر دیں تو یہ سخت بے ایمانی ہوگی ۔ ہمیں خدا نے اپنی کتاب میں یہ تو نہیں بتلایا کہ مسیح موعود سے پہلے الیاس نبی کا کوئی مثیل آئے گا بلکہ اُس نے تو صاف طور پر ہمیں خبر دے دی ہے کہ ۱۲۲ خود الیاس ہی دوبارہ آسمان سے نازل ہو جائے گا تو پھر ایسی صریح خبر سے ہم کیونکر انکار کر دیں اور پھر آخر مضمون میں لکھتا ہے کہ اگر خدا نے قیامت کے دن ہم سے پوچھا کہ تم نے اس شخص یعنی یسوع بن مریم کو کیوں قبول نہ کیا اور کیوں اُس پر ایمان نہ لائے تو ہم ملا کی کی نبی کی اس کتاب اُس کے سامنے پیش کر دیں گے۔ غرض یہ عقیدہ قدیم سے یہود کا ہے کہ ان کا سچا مسیح موعود جو پہلا مسیح موعود ہے تبھی آئے گا جب پہلے اس سے الیاس نبی دوبارہ دنیا میں آجائے گا مگر حضرت عیسی علیہ السلام نے اُن کی ایک نہ سنی اور ان کو یہی سنائی کہ اس آنے والے سے مراد یوحنا نبی ہے۔ یہی حضرت عیسی علیہ السلام کا فیصلہ ہے جس کے برخلاف آپ لوگوں نے شور مچا رکھا ہے۔ کیا الیاس نبی دوبارہ دنیا میں آ گیا تا حضرت عیسی بھی دوبارہ آجائیں گے بلکہ اگر کسی شخص کا دوبارہ دنیا میں آنا جائز ہے تو اس سے حضرت عیسی سچے نبی ٹھہر نہیں سکتے اور ان کی نبوت باطل ہوتی ہے کیونکہ اس صورت میں ماننا پڑتا ہے کہ انہوں نے ناحق اپنی بات بنانے کے لئے بھی نبی کو الیاس بنا دیا ورنہ الیاس ابھی آسمان سے نازل نہیں ہوا تھا۔ کیا عقلمند کے لئے الیاس نبی کے دوبارہ آنے کا قصہ جس کی وجہ سے کئی لاکھ یہودی حضرت عیسی کورڈ کر کے واصل جہنم ہو گئے عبرت کا مقام نہیں؟ جب کہ الیاس نبی جس کا آسمان سے نازل ہونا حضرت عیسی کے دعوی کی سچائی کے لئے ایک علامت مقرر کی گئی تھی آسمان سے نازل نہ ہوا تو اب وہی راہ اس زمانہ کے مسلمان کیوں اختیار کرتے ہیں جس کی وجہ سے پہلے اس سے یہودی کا فر ہو گئے ۔ اگر آسمان سے نازل ہونا سنت اللہ میں داخل ہوتا تو الیاس کی راہ میں کون سے پتھر پڑ گئے تھے کہ باوجود یکہ خدا تعالیٰ