براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 3
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳ دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم که قضاء وقدر در حقیقت ایک ایسی چیز ہے جس کے احاطہ سے باہر نکل جانا انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ مجھے اس بات پر افسوس ہے بلکہ اس بات کے تصور سے دل دردمند ہو ﴿۲﴾ جاتا ہے کہ بہت سے لوگ جو اس کتاب کے خریدار تھے اس کتاب کی تکمیل سے پہلے ہی دنیا سے گزر گئے مگر جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں انسان تقدیر الہی کے ماتحت ہے اگر خدا کا ارادہ انسان کے ارادہ کے مطابق نہ ہو تو انسان ہزار جد و جہد کرے اپنے ارادہ کو پورا نہیں کر سکتا۔ لیکن جب خدا کے ارادہ کا وقت آجاتا ہے تو وہی امور جو بہت مشکل نظر آتے تھے نہایت آسانی سے میسر آجاتے ہیں۔ اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ کے تمام کاموں میں حکمت اور مصلحت ہوتی ہے تو اس عظیم الشان دینی خدمت کی کتاب میں جس میں اسلام کے تمام مخالفوں کا رد مقصود تھا کیا حکمت تھی کہ وہ کتاب تخمینا تیکہ ی کہ وہ کتاب تخمینا تئیس برس تک مکمل ہونے سے معرض التوا میں رہی ۔ اس کا جواب خدا ہی بہتر جانتا ہے کوئی انسان اس کے تمام بھیدوں پر محیط نہیں ہو سکتا مگر جہاں تک میرا خیال ہے وہ یہ ہے کہ براہین احمدیہ کے ہر چہار حصے کہ جو شائع ہو چکے تھے وہ ایسے امور پر مشتمل تھے کہ جب تک وہ امور ظہور میں نہ آجاتے تب تک براہین احمدیہ کے ہر چہار حصہ کے دلائل مخفی اور مستور رہتے اور ضرور تھا کہ براہین احمدیہ کا لکھنا اس وقت تک ملتوی رہے جب تک کہ امتداد زمانہ سے وہ سر بستہ امور کھل جائیں اور جو دلائل اُن حصوں میں درج ہیں وہ ظاہر ہو جائیں کیونکہ براہین احمدیہ کے ہر چہار حصوں میں جو خدا کا کلام یعنی اس کا الہام جا بجا مستور ہے جو اس عاجز پر ہوا وہ اس بات کا محتاج تھا جو اس کی تشریح کی جائے اور نیز اس بات کا محتاج تھا کہ جو پیشگوئیاں اس میں درج ہیں اُن کی سچائی لوگوں پر ظاہر ہو جائے۔ پس اس لئے خدائے حکیم علیم نے اس وقت تک براہین احمدیہ کا چھپنا ملتوی رکھا کہ جب تک وہ تمام پیشگوئیاں ظہور میں آگئیں اور یادر ہے کہ