براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 185
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۸۵ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ما بہ الامتیاز قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ کلام جو غیر کا کلام ام جو غیر کا کلام کہلاتا ہے قرآنی سورتوں ۳۰ میں سے کسی سورت کے برابر ہو کیونکہ اعجاز کیلئے اسی قدر معتبر سمجھا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوْا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ ہیں فرمایا کہ فَأْتُوا بِآيَةٍ مِّنْ مِثْلِهِ يَا فَأْتُوا بِكَلِمَةٍ مِّنْ مِثْلِهِ ۔ اور در حقیقت یہ سچ ہے کہ خدا کے کلمات علیحدہ علیحدہ تو وہی کلمات ہیں جو کفار کی زبان پر بھی جاری تھے۔ پھر رنگینی عبارت اور نظم کلام اور دیگر لوازم کے لحاظ سے وہی کلمات بحیثیت مجموعی ایک معجزہ کے رنگ میں ہو گئے اور جو معجزہ خدا تعالیٰ کے افعال میں پایا جاتا ہے اس کی بھی یہی شان ہے یعنی وہ بھی اپنی حیثیت مجموعی سے معجزہ بنتا ہے جیسا کہ کلام اپنی حیثیت مجموعی سے معجزہ بنتا ہے۔ ہاں خدا تعالیٰ کے منہ سے جو چھوٹے چھوٹے فقرے نکلتے ہیں وہ اپنے مطالب عالیہ کے لحاظ سے جو اُن کے اندر ہوتے ہیں انسانی فقرات سے امتیاز کلی رکھتے ہیں۔ یہ امر دیگر ہے کہ انسان ان کے پوشیدہ حقائق معارف تک نہ پہنچے مگر ضرور ان کے اندر انوار مخفیہ ہوتے ہیں جو ان کلمات کی روح ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ یہی کلمہ فَتَبْرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخُلِقِينَ اپنی گذشتہ آیات کے ساتھ تعلق کی وجہ سے ایک امتیازی رنگ اپنے اندر رکھتا ہے۔ یعنی اس قسم کی روحانی فلاسفی اس کے اندر بھری ہوئی ہے کہ وہ بجائے خود ایک معجزہ ہے جس کی نظیر انسانی کلام میں نہیں ملتی۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس سورۃ کے ابتدا میں جو سورۃ المؤمنون ہے جس میں یہ آیت فَتَبْرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخُلِقِينَ ہے اس بات کو بیان فرمایا ہے کہ کیونکر انسان مراتب ستہ کو طے کر کے جو اس کی تکمیل کے لئے ضروری ہیں اپنے کمال روحانی اور جسمانی کو پہنچتا ہے۔ سو خدا نے دونوں قسم کی ترقیات کو چھ چھ مرتبہ پر تقسیم کیا ہے اور مرتبہ ششم کو کمال ترقی کا مرتبہ قرار دیا ہے اور یہ مطابقت روحانی اور جسمانی وجود کی ترقیات کی ایسے خارقِ عادت طور پر دکھلائی ہے کہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے کبھی کسی انسان کے ذہن نے اس نکتہ معرفت کی طرف سبقت نہیں کی۔ اور اگر کوئی دعوے کرے کہ سبقت کی ہے تو البقرة : ۲۴ المؤمنون : ۱۵