براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 184

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۸۴ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ان عبد الله بن سعد بن ابی سرح كان يكتب هذه الآيات لرسول الله صلى الله عليه وسلّم فلما انتهى الى قوله تعالى خلقا اخر عجب من ذالک فقال فتبارک الله احسن الخالقين ۔ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلّم اكتب فهكذا نزلت، فشك عبد الله وقال ان كان محمد صادقًا فيما يقول فانه يوحى إلى كما يوحى اليه وان كان كاذبًا فلا خير في دينه فهرب الى مكة فقيل انه مات على الكفر وقيل انه اسلم يوم الفتح ۔ ترجمہ یہ ہے کہ کلبی نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ عبداللہ ابن ابی سرح قرآن شریف کی آیات لکھا کرتا تھا۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے روبرو جیسی آیت نازل ہوتی تھی اُس سے لکھواتے تھے۔ پس جب وہ آیت لکھوائی گئی جو خلقاً آخر تک ختم ہوتی ہے تو عبد اللہ اس آیت سے تعجب میں پڑ گیا۔ اور عبد اللہ نے کہا فتبارک اللہ احسن الخالقین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی لکھ لے کیونکہ خدا نے بھی یہی فقرہ جو تیرے منہ سے نکلا ہے یعنی فتبارک الله احسن الخالقین نازل کر دیا ہے۔ پس عبدالله شک میں پڑ گیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو میری زبان کا کلمہ ہے وہی خدا کا کلمہ ہو گیا۔ اور اُس نے کہا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دعوے میں صادق ہے تو مجھے بھی وہی وحی ہوتی ہے جو اُسے ہوتی ہے اور اگر کا ذب ہے تو اس کے دین میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔ پھر وہ مکہ کی طرف بھاگ گیا۔ پس ایک روایت یہ ہے کہ وہ کفر پر مر گیا اور ایک یہ بھی روایت ہے کہ وہ فتح مکہ کے وقت مسلمان ہو گیا۔ اب دیکھو عبد اللہ ابن ابی سرح کے کلام سے خدا تعالیٰ کے کلام کا توارد ہوا یعنی عبداللہ کے منہ سے بھی یہ فقرہ نکلا تھا فتبارک الله احسن الخالقین اور خدا تعالیٰ کی وحی میں بھی یہی آیا۔ اور اگر کہو کہ پھر خدا تعالیٰ کے کلام اور انسان کے کلام میں ما بہ الامتیاز کیا ہوا ؟ تو اول تو ہم اس کا یہی جواب دیتے ہیں کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے آپ قرآن شریف میں فرمایا ہے