براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 159

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۵۹ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم پھر معترض کا پیشگوئی عفت الديار پر ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ عفت کا لفظ جو ماضی کا صیغہ ہے اس کا ترجمہ مضارع کے معنوں میں کیا گیا ہے حالانکہ اس کا ترجمہ ماضی کے معنوں L میں کرنا چاہئے تھا۔ اس اعتراض کے ساتھ معترض نے بہت شوخی دکھلائی ہے۔ گویا مخالفانہ حملہ میں اس کو بھاری کامیابی ہوئی ہے۔ اب ہم اس کی کس کس دھوکا دہی کو ظاہر کریں جس شخص نے کافیہ یا ہدایت الخو بھی پڑھی ہوگی ۔ وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آجاتی ہے بلکہ ایسے مقامات میں جبکہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ یہ متکلم کی نگاہ میں یقینی الوقوع ہو مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں تا اس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو۔ اور قرآن شریف میں اس کی بہت نظیریں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَإِذَا هُمْ مِّنَ الْأَجْدَاثِ إِلَى رَبِّهِمْ يَنْسِلُونَ اور جیسا کہ فرماتا ہے وَإِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمَّيَ الْهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ قَالَ اللهُ هُذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصَّدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ اور جیسا کہ فرماتا ہے وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلَّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقْبِلِينَ اور جیسا کہ فرماتا ہے وَنَادَى أَصْحَبُ الْجَنَّةِ أَصْحَبَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُوا ﴿۷﴾ نعم اور جیسا کہ فرماتا ہے تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ہے تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ اور جیسا کہ فرماتا ہے وَلَوْ تَرَى إِذْ وَ قِفُوا عَلَى النَّارِ اور جیسا کہ فرماتا ہے وَلَوْ تَرَى اذْ وَقِفُوا عَلَى رَبِّهِمْ قَالَ أَلَيْسَ هُذَا بِالْحَقِّ قَالُوا بَلَى وَرَبَّنَا اب معترض صاحب مثلاً جس شخص کو بہت سی زہر قاتل دی گئی ہو وہ کہتا ہے کہ میں تو مر گیا۔ اور ظاہر ہے کہ مر گیا ماضی کا صیغہ ہے مضارع کا صیغہ نہیں ہے۔ اس سے مطلب اس کا یہ ہوتا ہے کہ میں مر جاؤں گا ۔ اور مثلاً ایک وکیل جس کو ایک قوی اور کھلی کھلی نظیر فیصلہ چیف کورٹ کی اپنے مؤکل کے حق میں مل گئی ہے وہ خوش ہو کر کہتا ہے کہ بس اب ہم نے فتح پالی حالانکہ مقدمہ ابھی زیر تجویز ہے کوئی فیصلہ نہیں لکھا گیا ۔ پس مطلب اس کا یہ ہوتا ہے کہ ہم یقینا فتح پالیں گے اسی لئے وہ مضارع کی جگہ ماضی کا صیغہ استعمال کرتا ہے۔ منہ المآئدة: ١١٧ ا پس : ۵۲ اللهب : ٢-٣ الانعام: ۲۸ المائدة : ١٢٠ الحجر : ۴۸ ه الاعراف: ۴۵ الانعام: ٣١