براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 158
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۵۸ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم یہ بھی خدا تعالیٰ پر گستاخانہ حملہ ہے وہ ہر ایک شخص کے قول کا وارث ہے لبید ہو یا کوئی اور ہو۔ اُسی کی توفیق سے شعر بھی بنتا ہے۔ پس اگر اس نے ایک شخص کے کلام کو لے کر بطور وحی القا کر دیا تو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ اور اگر یہ اعتراض ہو سکتا ہے تو پھر اس بات کا کیا جواب ہے کہ قرآن شریف میں جو یہ آیت ہے فتبارک الله احسن الخالقین ۔ یہ بھی دراصل ایک انسان کا کلام تھا۔ یعنی عبداللہ بن ابی سرح کا جو ابتداء میں قرآن شریف کی بعض آیات کا کا تب بھی تھا پھر مرتد ہو گیا وہی کلام اس کا بغیر کمی بیشی کے فرقان مجید میں نازل ہو گیا اور یہ وحی الہی کہ عفت الديار محلها و مقامها اس کے حروف قرآن شریف کی آیت موصوفہ کے حروف سے بھی زیادہ نہیں ہیں ۔ یعنی فَتَبْرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخُلِقِينَ سے بلکہ اس کے اکیس حرف ہیں مگر آیت قرآنی کے بائیں حرف ۔ پھر معترض کا اس وحی الہی پر یہ کہاوت سنانا کہ کجا کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا۔ بھان متی نے کنبہ جوڑا اُس کو ذرا سوچنا چاہیے کہ اُس نے در حقیقت قرآن شریف پر حملہ کر کے اپنی عاقبت درست کر لی ہے۔ اور قرآن شریف میں صرف یہی وحی نہیں جو اس بات کا نمونہ ہو جو وہ پہلے انسانی کلام تھا اور پھر اُس سے خدا تعالیٰ کی وحی کا توارد ہوا بلکہ بہت سے ایسے نمونے پیش ہو سکتے ہیں جہاں انسانی کلام سے خدا تعالیٰ کے کلام کا تو ارد ہوا جیسا کہ قرآن شریف کو بہت جگہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کلام سے تو ارد ہوا ہے جس سے علماء بے خبر نہیں ہیں۔ اور جن کی ایک بڑی فہرست پیش ہو سکتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معترض دراصل قرآن شریف سے منکر ہے ورنہ ایسا گستاخی اور بے ادبی کا کلمہ ہرگز اس کے منہ پر نہ آتا۔ کیا کوئی مومن ایسا اعتراض کسی پر کر سکتا ہے؟ کہ وہ اعتراض بعینہ قرآن شریف پر آتا ہو۔ نعوذ باللہ ہر گز نہیں ۔ اگر چہ گناہ ہزاروں قسم کے ہوتے ہیں مگر نہایت درجہ کا لعنتی وہ شخص ہے جو خدا تعالیٰ کے پاک کلام پر اعتراض کرے۔ جاہل جلدی سے اور گستاخی سے اور خوش ہو کر خدا تعالیٰ کے کلام پر اعتراض کرتا ہے اور اس قدوس سے لڑتا ہے مگر وہ مر جاتا تو اس سے بہتر تھا۔ منہ ا المومنون : ۱۵