براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 135

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۳۵ براہین احمد یہ حصہ پنجم میری نسبت جو کہیں کہیں سے وہ سب پر آتا ہے چھوڑ دیں گے کیا وہ سب کو کفر کر کے اختیار ۱۰۵ مجھ کو کافر کہہ کے اپنے کفر پر کرتے ہیں مہر یہ تو ہے سب شکل اُن کی ہم تو ہیں آئینہ دار ساٹھ سے ہیں کچھ برس میرے زیادہ اس گھڑی سال ہے اب تیسواں دعوے پہ از روئے شمار تھا برس چالیس کا میں اس مسافر خانہ میں جبکہ میں نے وحی ربانی سے پایا افتخار اس قدر یہ زندگی کیا افترا میں کٹ گئی پھر عجب تر یہ کہ نصرت کے ہوئے جاری بحار ہر قدم میں میرے مولی نے دیئے مجھ کو نشاں ہر عدو پر حجت حق کی پڑی ہے ذوالفقار نعمتیں وہ دیں مرے مولی نے اپنے فضل سے جن سے ہیں معنی أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ آشکار سایہ بھی ہو جائے ہے اوقات ظلمت میں جدا پر رہا وہ ہر اندھیرے میں رفیق و غمگسار اس قدر نصرت تو کاذب کی نہیں ہوتی کبھی گر نہیں باور نظیریں اس کی تم لاؤ دو چار پھر اگر ناچار ہو اس سے سے کہ دو کوئی نظیر اُس مہیمن سے ڈرو جو بادشاہ ہر دو دار یہ کہاں سے سن لیا تم نے کہ تم آزاد ہو کچھ نہیں تم پر عقوبت گو کرو عصیاں ہزار نعرةِ إِنَّا ظَلَمْنَا سنتِ ابرار ہے زہر منہ کی مت دکھاؤ تم نہیں ہو نسل مار جسم کو مل مل کے دھونا یہ تو کچھ مشکل نہیں دل کو جو دھووے وہی ہے پاک نزد کردگار اپنے ایماں کو ذرا پردہ اُٹھا کر دیکھنا مجھ کو کافر کہتے کہتے خود نہ ہوں از اہل نار گر حیا ہو سوچ کر دیکھیں کہ یہ کیا راز ہے وہ مری ذلت کو چاہیں پا رہا ہوں میں وقار کیا بگاڑا اپنے مکروں سے ہمارا آج تک اثر دہا بن بن کے آئے ہو گئے پھر سوسمار اے فقیہو عالمو مجھ کو سمجھ آتا نہیں یہ نشانِ صدق پاکر پھر یہ کیں اور یہ نقار صدق کو جب پایا اصحاب رسول اللہ نے اُس پر مال و جان و تن بڑھ بڑھ کے کرتے تھے نثار پھر عجب یہ علم ۔ یہ تنقید آثار و حدیث دیکھ کر سوسو نشاں پھر کر رہے ہو تم فرار