براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 134
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۳۴ براہین احمد یہ حصہ پنجم ۱۰ پھر لگایا ناخنوں تک زور بن کر اک گروہ پر نہ آیا کوئی بھی منصوبہ اُن کو ساز وار ہم نگہ میں اُن کی دجال اور بے ایماں ہوئے آتش تکفیر کے اُڑتے رہے پیہم شرار اب ذرہ سوچو دیانت سے کہ یہ کیا بات ہے ہاتھ کس کا ہے کہ رد کرتا ہے وہ دشمن کا وار کیوں نہیں تم سوچتے کیسے ہیں یہ پردے پڑے دل میں اٹھتا ہے مرے رہ رہ کے اب سوسو بخار یہ اگر انساں کا ہوتا کاروبار اے ناقصاں ایسے کاذب کے لئے کافی تھا وہ پروردگار کچھ نہ تھی حاجت تمہاری نے تمہارے مکر کی خود مجھے نابود کرتا وہ جہاں کا شہریار پاک و برتر ہے وہ جھوٹوں کا نہیں ہوتا نصیر ورنہ اُٹھ جائے اماں پھر سچے ہوویں شرمسار اس قدر نصرت کہاں ہوتی ہے اک کذاب کی کیا تمہیں کچھ ڈر نہیں ہے کرتے ہو بڑھ بڑھ کے وار ہے کوئی کاذب جہاں میں لاؤ لوگو کچھ نظیر میرے جیسی جس کی تائیدیں ہوئی ہوں بار بار آفتاب صبح نکلا اب بھی سوتے ہیں یہ لوگ دن سے ہیں بیزار اور راتوں سے وہ کرتے ہیں پیار روشنی سے بغض اور ظلمت پر وہ قربان ہیں ایسے بھی شہر نہ ہوں گے گرچہ تم ڈھونڈو ہزار سر پہ اک سورج چمکتا ہے مگر آنکھیں ہیں بند مرتے ہیں بن آب وہ اور در پہ نہر خوشگوار طرفہ کیفیت ہے اُن لوگوں کی جو منکر ہوئے یوں تو ہر دم مشغلہ ہے گالیاں لیل و نہار پر اگر پوچھیں کہ ایسے کا ذبوں کے نام لو جن کی نصرت سالہا سے کر رہا ہو کردگار مردہ ہو جاتے ہیں اس کا کچھ نہیں دیتے جواب زرد ہو جاتا ہے منہ جیسے کوئی ہو سوگوار اُن کی قسمت میں نہیں دیں کے لئے کوئی گھڑی ہو گئے مفتون دنیا دیکھ کر اُس کا سنگار جی چرانا راستی سے کیا یہ دیں کا کام ہے کیا یہی ہے زہد و تقویٰ کیا یہی راه خیار کیا قسم کھائی ہے یا کچھ بیچ قسمت میں پڑا روز روشن چھوڑ کر ہیں عاشق شب ہائے تار انبیاء کے طور پر حجت ہوئی اُن پر تمام اُن کے جو حملے ہیں اُن میں سب نبی ہیں حصہ دار