براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 76

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۷۶ براہین احمدیہ حصہ پنجم اور کیسے مہجور اور مخذول کی طرح لوگوں کے تعلقات سے الگ تھا۔ اور پھر ان پیشگوئیوں کو جو حال کے زمانہ میں پوری ہو گئیں غور سے دیکھے اور تدبر سے اُن پر نظر ڈالے تو اُس کو ان پیشگوئیوں کی سچائی پر ایسا یقین آجائے گا کہ گویا دن چڑھ جائے گا ۔ مگر بخل اور تعصب اور نفسانی کبر اور رعونت کی حالت میں کسی کو کیا غرض جو اس قدر محنت اٹھائے بلکہ وہ تو تکذیب کی راہ کو اختیار کرے گا جو بہت سہل کام ہے اور کوشش کرے گا جو کسی طرح ان نشانوں کے قبول کرنے سے محروم رہے۔ بجز فضل خداوندی چه درمانی ضلالت را را نه بخشد سود اعجاز سے تهیدستان قسمت را اگر بر آسمان صد ماهتاب و صد خورے تابد نه بیند روز روشن آنکه گم کرده بصارت را تو اے دانا بترس از آنکه سوئے او بخواهی رفت به دنیا دل چه می بندی چه دانی وقت ، ردانی وقت رحلت را مشو از بهر دنیا سرکش فرمان احدیت مخر از بهر روزے چند اے مسکیں تو شقوت را اگر خواهی که یابی در دو عالم جاه و دولت را خدا را باش و از دل پیشه خود گیر طاعت را غلام در گهش باش و بعالم بادشاہی گن نباشد بیم از غیری پرستاران حضرت را تو از دل سوئے یار خود بیا تا نیز یار آید محبت می کشد با جذب روحانی محبت را خدا در نصرت آنکس بود کو ناصر دین ست ہمیں اُفتاد آئین از ازل درگاه عزت را اگر باور نمے آید بخواں ایں واقعاتم را که تا بینی تو در هر مشکلم انواع نصرت را ہر آں کو یابد از درگاه از خدمت ہے یا بد کہ غفلت را سزائے ہست واجرے ہست خدمت را من اندر کار خود حیرانم و رازش نمی دانم کہ من بے خدمتے دیدم چنیں نعماء و حشمت را نہاں اندر نہاں اندر نہاں اندر نہاں ہستم کجا باشد خبر از ما گرفتاران نخوت را