براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 75

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۷۵ براہین احمد یہ حصہ پنجم نسبت ہے جو ہجرت کر کے قادیاں میں آگئے ۔ سو جس کا جی چاہے آ کر دیکھ لے۔ ہر ایک جگہ یہ سات قسم کے نشان ہیں جن میں سے ہر ایک نشان ہزار ہانشانوں کا جامع ہے۔ مثلاً یہ پیشگوئی کہ يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيق جس کے یہ معنے ہیں کہ ہر ایک جگہ سے اور دور دراز ملکوں سے نقد اور جنس کی امداد آئے گی اور خطوط بھی آئیں گے۔ اب اس صورت میں جگہ سے جو اب تک کوئی روپیہ آتا ہے یا یا نا روپیہ آتا ہے یا پارچات اور دوسرے ہدیے آتے ہیں یہ سب بجائے خود ایک ایک نشان ہیں۔ کیونکہ ایسے وقت میں ان تمام باتوں کی خبر دی گئی تھی جبکہ انسانی عقل اس کثرت مدد کوڈ ور از قیاس و محال سمجھتی تھی۔ ایسا ہی یہ دوسری پیشگوئی یعنی يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيق جس کے یہ معنے ہیں کہ دُور دُور سے لوگ تیرے پاس آئیں گے یہاں تک کہ وہ سڑکیں ٹوٹ جائیں گی جن پر وہ چلیں گے۔ اس زمانہ میں یہ پیشگوئی بھی پوری ہوگئی چنانچہ اب تک کئی لاکھ انسان قادیان میں آچکے ہیں اور اگر خطوط بھی اس کے ساتھ شامل کئے جائیں جن کی کثرت کی خبر بھی قبل از وقت گمنامی کی حالت میں دی گئی تھی تو شاید یہ اندازہ کروڑ تک پہنچ جائے گا مگر ہم صرف مالی مدد اور بیعت کنندوں کی آمد پر کفایت کر کے ان نشانوں کو تخمینا دس لاکھ نشان قرار دیتے ہیں۔ بے حیا انسان کی زبان کو قابو میں لانا تو کسی نبی کیلئے ممکن نہیں ہوا لیکن وہ لوگ جو حق کے طالب ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایسے گمنامی کے زمانہ میں جس کو قریباً پچیس برس گزر گئے جب کہ میں کچھ بھی چیز نہ تھا اور کسی قسم کی شہرت نہ رکھتا تھا اور کسی بزرگ خاندان پیرزادگی سے نہ تھا تا رجوع خلائق سہل ہوتا ۔ اس قدر کھلے طور پر آئندہ زمانہ کے عروج اور ترقیات کی خبر دینا اور پھر ان چیزوں کا اُسی طرح بعد زمانہ دراز وقوع میں آجانا کیا کسی انسان ۵۹ سے ہو سکتا ہے اور کیا ممکن ہے کہ کوئی کذاب اور مفتری ایسا کر سکے۔ میں باور نہیں کر سکتا کہ جو شخص پہلے انصاف کی نظر سے اُس زمانہ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھے جبکہ براہین احمد یہ تالیف کی گئی تھی اور ابھی شائع بھی نہیں ہوئی تھی اور ایک جوڈیشل تحقیقات کے طور سے خود موقع پر آکر دریافت کرے کہ اُس زمانہ میں میں کیا چیز تھا اور کس قدر خمول اور گمنامی کے زاویہ میں پڑا ہوا تھا