براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 603
روحانی خزائن جلد 1 ۶۰۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم نے منع کیا ہے اور اُسی کتاب کا پابند رہتا ہے جو اُس کے شارع نے دی ہے تو بر خلاف قسم دوم کے کہ اُس میں انفکاک جائز ہے اور جب تک ولایت کسی ولی کی قسم سوم تک نہیں پہنچتی عارضی ہے اور خطرات سے امن میں نہیں ۔ وجہ یہ کہ ۵۰۵ جب تک انسان کی سرشت میں خدا کی محبت اور اس کے غیر کی عداوت داخل نہیں ۔ تب تک کچھ رگ و ریشہ ظلم کا اس میں باقی ہے کیونکہ اُس نے حق ر بو بیت کو ه حاشیه نمبر ا ا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ خلق آدم فاکرمه - پیدا کیا آدم کو پس اکرام کیا اس کا جرى الله في حلل الانبياء جری اللہ نبیوں کے حلوں میں ۔ اس فقرہ الہامی کے یہ معنے ہیں کہ منصب ارشاد و ہدایت اور مورد وحی الہی ہونے کا دراصل حلہ انبیاء ہے اور ان کے غیر کو بطور مستعار ملتا ہے اور یہ حلہ انبیاء امت محمدیہ کے بعض افراد کو بغرض تکمیل ناقصین عطا ہوتا ہے اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ۔ پس یہ لوگ اگرچہ نبی نہیں پر نبیوں کا کام ان کو سپرد کیا جاتا ہے۔ و کـنتــم عــلـى شفا حفرة فانقذكم منها ۔ اور تھے تم ایک گڑھے کے کنارہ پر سواس سے تم کو خلاصی بخشی یعنی خلاصی کا سامان عطا فرمایا۔ عسى ربكم ان يرحم عليكم وان عدتم عدنا وجعلنا جهنم للكافرين ۵۰۵ حصيرا - خدائے تعالیٰ کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے جو تم پر رحم کرے اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے۔ تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور بحوالہ اربعین روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۳۵۷ و حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۸۵ سہو کتابت ہے ۔ ان يرحمکم ہونا چاہیے۔ (ناشر)