براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 590 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 590

روحانی خزائن جلد ۱ بقیه حاشیه نمبر ا ا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ ۵۸۸ براہین احمدیہ حصہ چہارم اب خلاصہ اس تقریر کا یہ ہے کہ اگر آ نحضرت اُمّی نہ ہوتے تو مخالفین اسلام بالخصوص یہودی اور عیسائی جن کو علاوہ اعتقادی مخالفت کے یہ بھی حسد اور بغض دامنگیر تھا کہ بنی اسرائیل میں سے رسول نہیں آیا بلکہ ان کے بھائیوں میں سے جو بنی اسماعیل ہیں آیا وہ کیونکر ایک صریح امر خلاف واقعہ پا کر خاموش رہتے وہ ہے کہ جو جو ابتدائی درجہ میں نفس کشی کے لئے تکالیف اٹھائی جاتی ہیں اور حالت معتادہ کو چھوڑ کر طرح طرح کے دکھ سہنے پڑتے ہیں وہ سب آلام صورت انعام میں ظاہر ہو جائیں اور بجائے مشقت کے لذت اور بجائے رنج کے راحت اور بجائے تنگی کے انشراح اور بشاشت نمودار ہو ۔ اور ترقیات کا اعلیٰ درجہ وہ ہے انعکاس ہو کر ایک دوسرا کمال جو تدتی ہے عارف کے لئے پیش آئے گا ۔ اور تدلّی سے مراد وہ ہبوط اور نزول ہے کہ جب انسان تخلق باخلاق اللہ حاصل کر کے اس ذات رحمان و رحیم کی طرح شفقتا على العباد عالم خلق کی طرف رجوع کرے۔ اور چونکہ کمالات دنو کے کمالات تدگی سے لازم ملزوم ہیں ۔ پس تدتی اسی قدر ہو گی جس قدر دنو ہے ۔ اور دنو کی کمالیت اس میں ہے کہ اسماء اور صفات الہی کے عکوس کا سالک کے قلب میں ظہور ہو۔ اور محبوب حقیق بے شائبہ ظلمیت اور بے تو اہم حالیت و محلیت اپنے تمام صفات کاملہ کے ساتھ اس میں ظہور فرمائے اور یہی استخلاف کی حقیقت اور روح اللہ کی نفخ کی ماہیت ہے اور یہی تخلق باخلاق اللہ کی اصل بنیاد ہے اور جبکہ تدلی کی حقیقت کو تخلق با خلاق اللہ لازم ہوا اور کمالیت فی التخلق اس بات کو چاہتی ہے کہ شفقت علی العباد اور ان کے لئے بمقام نصیحت کھڑے ہونا اور ان کی بھلائی کے لئے بدل و جان مصروف ہو جانا اس حد تک پہنچ جائے جس پر زیادت متصور نہیں اس لئے واصل تام کو مجمع الاضداد ہونا پڑا کہ وہ کامل طور پر رو بخدا بھی ہو اور پھر کامل طور پر رو بخلق بھی پس وہ ان دونوں قوسوں الوہیت و انسانیت میں ایک وتر کی طرح ۴۹۵ ۴۹۵