براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 224
براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۲۲ روحانی خزائن جلد ۱ بقیه حاشیه یه نمبراا مہارت تامہ رکھتا ہے جس کو زمانہ دراز کی مشق کے باعث سے تشخیص امراض اور تحقیق عوارض کی پوری پوری واقفیت حاصل ہے اور علاوہ اس کے فن سخن جو تسلی اور تشفی وعدہ سے حاصل ہوتی ہے وہ نری خود تراشیدہ خیالات سے ممکن نہیں مثلاً خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایمانداروں کو یہ وعدہ دیا ہے ۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصُّلِحَتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ خُلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللهِ قِيلًا ل الجزو نمبر ۵ یعنی خدا مومنین صالحین کو ہمیشہ کی بہشت میں داخل کرے گا ۔ خدا کی طرف سے یہ سچا وعدہ ہے اور خدا سے زیادہ تر سچا اپنی باتوں میں اور کون ہے۔ اب خود منصف ہو کر بتلاؤ کہ کیا اس صریح وعدہ سے صرف اپنے ہی دل کے خیالات برابر ہو سکتے ہیں کیا کبھی یہ دونوں صورتیں یکساں ہو سکتی ہیں کہ ایک کو ایک راستباز کسی قدر مال دینے کا اپنی زبان سے وعدہ کرے اور دوسرے کو وہ راستباز اپنی زبان سے کچھ بھی وعدہ نہ کرے کیا مبشر اور غیر مبشر دونوں برابر ہو سکتے ہیں ہرگز نہیں ۔ اب اپنے ہی دل میں سوچو کہ زیادہ صاف اور کھلا ہوا اور با اطمینان وہ کام ہے کہ جس میں خدا کی طرف سے نیک اجر دینے کا وعدہ ہو یا وہ کام کہ جو فقط اپنے ہی دل کا منصوبہ ہو اور خدا کی طرف سے خاموشی ہو۔ کون دانا ہے کہ جو وعدہ کو غیر وعدہ سے بہتر نہیں جانتا۔ کون سا دل ہے جو وعدہ کے لئے نہیں تڑپتا ۔ اگر خدا کی طرف سے ہمیشہ چپ چاپ ہی ہو تو پھر اگر خدا کی راہ میں کوئی محنت بھی کرے تو کس بھروسہ پر ۔ کیا وہ اپنے ہی تصورات کو خدا کے وعدے قرار دے سکتا ہے۔ ہرگز نہیں ۔ جس کا ارادہ ہی معلوم نہیں کہ وہ کونسا بدلہ دے گا اور کیونکر دے گا اور کب تک دے گا ۔ اس کے کام پر کون خود بخود پختہ امید کر سکتا ہے۔ اور ناامیدی کی حالت میں کیونکر محنتوں اور کوششوں پر دل لگا سکتا ہے۔ انسان کی کوششوں کو حرکت دینے والے اور انسان کے دل میں کامل جوش پیدا کرنے والے خدا کے وعدے ہیں ۔ انہیں پر نظر کر کے عقلمند انسان اس دنیا کی محبت کو چھوڑتا ہے اور ہزاروں پیوندوں اور تعلقوں اور زنجیروں سے خدا کے لئے الگ ہو جاتا ہے ۔ وہی وعدے ہیں کہ جو ایک آلودہ حرص و ہوا کو ایکبارگی خدا کی طرف کھینچ لاتے ہیں ۔ جبھی کہ ا النساء : ١٢٣ ۲۰۳ ۲۰۳