براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 123

روحانی خزائن جلد 1 ۱۲۱ براہین احمدیہ حصہ دوم دنیا کے فرقوں کی مقدس کتابیں مطالعہ کی تھیں ۔ پس اگر قرآن شریف کا نازل کرنے والا خدا نہیں ہے تو کیونکر اس میں تمام دنیا کے علوم حقہ الہیہ لکھے گئے اور وہ تمام ادلہ کاملہ علم الہیات کی کہ جن کے باستیفا اور بصحت لکھنے سے سارے منطقی اور معقولی اور فلسفی عاجز رہے اور ہمیشہ غلطیوں میں ہی ڈوبتے ڈوبتے مر گئے وہ کس فلاسفر بے مثل و مانند نے قرآن شریف میں درج کر دیں اور کیونکر وہ اعلیٰ درجہ کی مدلل تقریریں کہ جن کی پاک اور روشن دلائل کو دیکھ کر مغرور حکیم یونان اور ہند کے اگر کچھ شرم ہو تو جیتے ہی مرجائیں ایک ۱۲۸ غریب امی کے ہونٹوں سے نکلیں اس قدر دلائل صدق کی پہلے نبیوں میں کہاں موجود ہیں۔ آج دنیا میں وہ کون سی کتاب ہے جو ان سب باتوں میں قرآن شریف کا مقابلہ کر سکتی ہے کسی نبی پر وہ سب واقعات جو ہم نے بیان کئے مثل آں حضرت کے گزرے ہیں بالخصوص جو وید کے الہام یافتہ رشی قرار دیئے جاتے ہیں ان کا تو خود وجود ہی ثابت نہیں ہوتا قطع نظر اس سے کہ کوئی اثر صدق کا ثابت ہو۔ صاحبو اگر آپ لوگوں کے نزدیک ڈرتے نہیں اور کیونکر ڈریں مسح کے کفارہ پر بھروسہ جوٹھہرا۔ ورنہ عقل ہرگز باور نہیں کر سکتی کہ پادریوں کی ایسی ناقص سمجھ ہے کہ وہ اب تک خدا کے قانون قدیم سے بھی بے خبر ہیں اور وہ خدا کہ جس نے موسیٰ کے وقت میں ایک قوم کو غافل اور ظالم کے ہاتھ میں گرفتار دیکھ کر اپنا پیغمبر بھیجا اور پھر حضرت عیسیٰ کے وقت میں یہودیوں کی ذرہ سی بد چلنی پر جھٹ پٹ حضرت مسیح کو بھیج دیا وہ آخری زمانہ میں ایسا سخت دل اور بے رحم ہو گیا کہ با وصفیکہ ساری دنیا شرک اور مخلوق پرستی میں غرق ہو گئی پر اسے ہدایت نازل کرنے کا کچھ بھی خیال نہ آیا بلکہ الٹا گمراہوں کی اور بھی ستیا ناس کرنے لگا۔ گویا پہلے زمانوں میں تو اسے گمراہی بری معلوم ہوتی تھی اور اب اچھی معلوم ہونے لگی ۔ منہ