براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 122
روحانی خزائن جلد 1 ۱۲۰ براہین احمدیہ حصہ دوم مکے کے لوگوں میں منادی کی کہ میں نبی ہوں ۔ اس وقت ان کے ہمراہ کون تھا اور کس بادشاہ ۱۳۷ کا خزانہ ان کے قبضہ میں آ گیا تھا کہ جس پر اعتماد کر کے ساری دنیا سے مقابلہ کرنے کی ٹھہر ۱۳۸ گئی یا کون سی فوج اکٹھی کر لی تھی کہ جس پر بھروسہ کر کے تمام بادشاہوں کے حملوں سے امن ہو گیا تھا۔ ہمارے مخالف بھی جانتے ہیں کہ اس وقت آنحضرت زمین پر اکیلے اور بے کس اور بے سامان تھے صرف ان کے ساتھ خدا تھا جس نے ان کو ایک بڑے مطلب کے لئے پیدا کیا تھا۔ پھر ذرہ اس طرف بھی غور کرنی چاہئیے کہ وہ کسی مکتب میں پڑھے تھے اور کس سکول کا پاس حاصل کیا تھا اور کب انہوں نے عیسائیوں اور یہودیوں اور آریہ لوگوں وغیرہ سو بھی اور یہی علاج دل کو پسند آیا جو بقول پادری صاحب خلقت کو پہلے سے بھی بدتر کر دے اور بجائے پیدا کرنے ایک مصلح کے ایسے شخص کے ایسے شخص کو خلقت پر مسلط کر دے جو بزعم پادریوں کے رہی سہی صلاحیت کو بھی دور کرے یعنی خدا کو لہو اور گندگی میں گھس آنے سے پاک سمجھے اور تولد اور موت اور فوت اور درد اور دکھ سے منزہ قرار دے۔ کیا کسی کے خیال میں آ سکتا ہے یا کسی منصف کا انصاف دلی یہ فتوی دیتا ہے جو خدائے کریم و رحیم میں ایسی ہی عادات ہیں اور وہ دنیا کو گمراہ دیکھ کر ایسا ہی بند و بست کیا کرتا ہے جو پہلے سے صد ہا درجہ زیادہ گمراہی میں ڈالتا ہے کسی اہل انصاف پر اس بات کا سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ دنیا میں فساد عام پھیل جانا ایک مصلح کو چاہتا ہے اور ہر یک عاقل کو صریح نظر آتا ہے کہ بر وقت غلبہ جہالت اور گمراہی کے خدا کی صفت رہنمائی کی خلقت پر ظاہر ہونی چاہئے ۔ مگر جو شخص تعصب سے اندھا ہو جائے اس کو کیونکر نظر آوے۔ کیا کبھی اندھے نے کچھ دیکھا ہے کہ وہ بھی دیکھے۔ افسوس کہ پادری لوگ ایسی ایسی ہٹ دھرمی کر کے پھر روزِ مواخذہ سے