براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 709 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 709

۔کوئی ان کے حال پر واقفیت نہیں <mark>پا</mark>تا کیونکہ وہ اللہ کے گنبدوں میں مخفی ہیں۔اگر خدا تعالیٰ ان میں سے <mark>کسی</mark> کو ظاہر <mark>کر</mark> دے تو اس کے جلو میں بادشاہ دوڑتے ہوئے چلیں۔یہ سب خدائے لاشریک کے عاشق خدا کے کلام سے ہی نور حاصل <mark>کر</mark>تے ہیں۔اگرچہ) عموماً(دنیا سے پوشیدہ ہیں تاہم کبھی کبھی ظاہر بھی ہو جاتے ہیں۔سورج اور چاند کی طرح باہر نکلتے ہیں اور غیروں کو بھی اپنا چہرہ دکھا دیتے ہیں۔خاص <mark>کر</mark> اس وقت کہ موسم خزاں کی ہوا محبت اور وفا کے باغ کو ویران <mark>کر</mark> دے۔اہل جہاں دنیائے فانی سے <mark>دل</mark> لگا لیں اور اس کی تعریفیں <mark>کر</mark>نے لگیں۔ایک سڑی ہوئی لاش کی تو مدح وثنا <mark>کر</mark>یں مگر خدائے <mark>کر</mark>یم کی طرف سے لاپروائی برتیں۔مال و<mark>دولت</mark> اور عزت وجاہ کے عاشق بن جائیں اور اس بادشاہ کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے۔اِس سرائے فانی کی شان وشوکت بیوقوفوں کی نظر میں اچھی لگنے لگے صفحہ ۳۶۲۔صرف زبانوں پر خدا کا ذ<mark>کر</mark> رہ جائے اور ان کا اندرونہ حرص وہوا سے بھر جائے۔ایسے دنوں میں <mark>جو</mark> اندھیری رات کی طرح ہوتے ہیں خدائے عا<mark>دل</mark> کی مہربانی لوگوں کا ہاتھ پکڑتی ہے۔وہ خلقت کی طرف ایک نورانی و<mark>جو</mark>د بھیجتا ہے تاکہ اس کے نور سے اندھیرا دور ہو۔تا کہ اُس عاشق زار کے شور وفغاں سے مخلوق اپنی نیند سے جاگ اٹھے۔تا کہ لوگ سیدھے راستے کو پہچانیں او رمن<mark>کر</mark> جان لیں کہ خدا مو<mark>جو</mark>د ہے۔ایسا شخص جب دنیا میں ظاہر ہوتا ہے تو خدا اُس کی عظمت کو جہان پر ظاہر <mark>کر</mark> دیتا ہے۔جب وہ آتا ہے تو موسم بہار پھر آجاتا ہے اور گلزار کا موسم لوٹ آتا ہے۔یار کے دیدار کا وقت لوٹ آتا ہے اور عاشقوں کو قرار آجاتا ہے۔معشوق کا چاند سا چہرہ نظر آنے لگتا ہے اور سورج نصف النہار پر واپس آجاتا ہے۔لالہ اور گلاب پھر ہنسنے لگتے ہیں اور بلبلیں پھر چہچہانے لگتی ہیں۔خدا کا غیبی ہاتھ مہربانی سے پرورش <mark>کر</mark>تا ہے اور اس کی سچائی کی صبح <mark><mark>کامل</mark></mark> طور پر ظاہر ہوتی ہے