براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 411 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 411

روحانی خزائن جلد 1 ۴۰۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم قدرت کاملہ سے بعید خیال کیا جائے اور کیوں خدا کو کمزور اور عاجز ٹھہرا کر انسان پر اس قدر مصیبتیں ڈالی جائیں جن کی تفصیل میں یہ بیان کیا جائے کہ انسان (۳۴۴ بقیه حاشیه نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ اور اسی وجہ سے جب معارض کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ایک حرف بھی ایسے موقعہ پر نہیں رکھا گیا کہ جو حکمت اور مصلحت سے دور ہو اور اُس کا ایک فقرہ بھی ایسا نہیں کہ جو زمانہ کی اصلاح کے لئے اشد ضروری نہ ہو۔ اور پھر بلاغت کا یہ کمال کہ ہرگز ممکن ہی نہیں کہ اس کی ایک سطر کی عبارت تبدیل کر کے بجائے اس کے کوئی دوسری عبارت لکھ سکیں ۔ تو ان بدیہی کمالات کے مشاہدہ کرنے سے معارض کے دل پر ایک بزرگ رعب پڑ جاتا ہے۔ ہاں کوئی نادان جس نے ان باتوں میں کبھی غور نہیں کی شاید بباعث نادانی سوال کرے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ یہ ساری خوبیاں سورۃ فاتحہ اور تمام قرآن شریف میں متحقق اور ثابت ہیں ۔ سو واضح ہو کہ اس بات کا یہی ثبوت ہے کہ جنہوں نے قرآن شریف کے بے مثل کمالات پر غور کی اور اس کی عبارت کو ایسے اعلیٰ درجہ کی فصاحت اور بلاغت پر پایا کہ اس کی نظیر بنانے سے عاجز رہ گئے اور پھر اس کے دقائق و حقائق کو ایسے مرتبۂ عالیہ پر دیکھا کہ تمام زمانہ میں اس کی نظیر نظر نہ آئی اور اس میں وہ تاثیرات عجیبہ مشاہدہ کیں کہ جو انسانی کلمات میں ہرگز نہیں ہوا کرتیں اور پھر ۳۴۴ اس میں یہ صفت پاک دیکھی کہ وہ بطور ہنزل اور فضول گوئی کے نازل نہیں ہوا بلکہ عین ضرورت حقہ کے وقت نازل ہوا تو انہوں نے ان تمام کمالات کے مشاہدہ کرنے سے بے اختیار اس کی بے مثل عظمت کو تسلیم کر لیا اور ان میں سے جولوگ باعث شقاوت از لی نعمت ایمان سے محروم رہے ان کے دلوں پر بھی اس قدر ہیبت اور رعب اس بے مثل کلام کا یہ کہ انجیل کی تعلیم کامل بھی نہیں چہ جائے کہ اس کو بے نظیر کہا جائے ۔ تمام محققین کا اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ اخلاق کا کامل مرتبہ صرف اس میں منحصر نہیں ۳۴۴ ہو سکتا کہ ہر جگہ و ہر محل میں عفو اور درگزر کو اختیار کیا جائے ۔ اگر انسان کو صرف عفو اور درگزر کا ہی حکم دیا جا تا تو صد ہا کام کہ جو غضب اور انتقام پر موقوف ہیں