براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 410
روحانی خزائن جلد 1 ۴۰۸ براہین احمدیہ حصہ چہارم نہ انہوں نے اپنے ما باپ سے سیکھا اور نہ کسی استاد سے تعلیم پائی۔ تو پھر کیا وجہ کہ ابتداء ۳۴۳) پیدائش میں جو عین حاجت کا زمانہ ہے۔ انسان کو بولیاں تعلیم کرنا خدائے تعالیٰ کی ۳۴۳ ۳۴۳ بقیه حاشیه نـ نمبرا اور کوئی لفظ اور کوئی حرف ایسا نہ ہو کہ جو حکیمانہ بیان پر مبنی نہ ہو۔ پھر ساتھ ہی یہ تیسرا تصور کرنے سے کہ وہ صداقتیں ایسی ہوں کہ حالت موجودہ زمانہ کو ان کی نہایت ضرورت ہو۔ پھر ساتھ ہی یہ چوتھا تصور کرنے سے کہ وہ صداقتیں ایسی بے مثل و مانند ہوں کہ کسی حکیم یا فیلسوف کا پتہ نہ مل سکتا ہو کہ ان صداقتوں کو اپنی نظر اور فکر سے دریافت کرنے والا ہو چکا ہو۔ پھر ساتھ ہی یہ پانچواں - تصور کرنے سے کہ جس زمانہ میں وہ صداقتیں ظاہر ہوئی ہوں ایک تازہ نعمت کی طرح ظاہر ہوئی ہوں اور اس زمانہ کے لوگ ان کے ظہور سے پہلے اس راہ راست سے بکلی بے خبر ہوں ۔ پھر ساتھ ہی یہ چھٹا تصور کرنے سے کہ اُس کلام میں ایک آسمانی برکت بھی ثابت ہو کہ جو اس کی متابعت سے طالب حق کو خدا وند کریم کے ساتھ ایک سچا پیوند اور ایک حقیقی انس پیدا ہو جائے اور وہ انوار اس میں چمکنے لگیں کہ جو مردان خدا میں چمکنے چاہئیں ۔ یہ کل مجموعی ایک ایسی حالت میں معلوم ہوتا ہے کہ عقل سلیم بلا توقف وتر در حکم دیتی ہے کہ بشری کلام کا ان تمام مراتب کاملہ پر مشتمل ہونا ممتنع اور محال اور خارق عادت ہے اور بلا شبہ ان تمام فضائل ظاہری و باطنی کو بہ نظر یکجائی دیکھنے سے ایک رُعب ناک حالت ان میں پائی جاتی ہے کہ جو عقلمند کو اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ اس کل مجموعی کا انسانی طاقتوں سے انجام پذیر ہونا عقل اور قیاس سے باہر ہے اور ایسی رعب ناک حالت گلاب کے پھول میں ہرگز پائی نہیں جاتی کیونکہ قرآن شریف میں یہ خصوصیت زیادہ ہے کہ اس کی صفات مذکورہ کہ جو بے نظیری کا مدار ہیں نہایت بدیہی الثبوت ہیں صریحاً انسان کے نفس میں قوت پاتے ہیں ۔ کیا ہم نرا دعوی کسی دلیل کے بغیر تسلیم کر لیں ۔ یا ایک امر بدیہی البطلان کو حق محض مان لیں کیا کریں؟ تو اب ظاہر ہے کہ یہ کیسا نکما جھگڑا اور کس درجہ کی نادانی ہے کہ ایک بے اصل اور بے ثبوت بات پر اصرار کرتے ہیں اور جو راستہ صاف اور سیدھا نظر آتا ہے ۔ اس پر قدم رکھنا نہیں چاہتے اور لطف بقیه حاشیه در ۳ حاشيه نمبر