براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 256
روحانی خزائن جلد 1 ۲۵۴ براہین احمدیہ حصہ سوم کی بے نظیری کی بعض وجوہ ایسی ہیں کہ ان کے جاننے کے لئے کسی قدر علم عربی ۲۳۰ درکار ہے ۔ مگر یہ بڑی غلطی اور جہالت ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ اعجاز قرآن ۲۳۰ ۲۳۰ قيه حاشیه بقي نمبر بقيه حاشیه نمبر حاشیه در ح إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ 1 اور بہ تحقیق خدا بڑا طاقت والا اور سزا دینے میں سخت ہے۔ اور وہ فَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۔ ٢ ان کی شرارتوں کے دفع کرنے کے لئے خدائے لئے خدا تجھے کافی ہے اور وَإِنَّا عَلَى أَنْ تُرِيَكَ مَا نَعِدُهُمْ سمیع اور علیم ہے اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو کچھ ہم ان کی تَقْدِرُونَ ۔ ٣ وَيَقُولُونَ لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ نسبت وعدہ کرتے ہیں وہ تجھے دکھلاویں او دکھلا دیں اور یہ لوگ کہتے ہیں اي اين دية قتل الم الغيب بل قال طرف کہ کیوں اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشان تائید دین کا نازل نہ ہوا۔ سوان کو کہہ کہ علم غیب خدا کا خاصہ ہے۔ پس تم نشان کے منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں اور کہہ خدا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ ۔ وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلهِ سَيُرِيْكُمْ أَيْتِهِ فَتَحْرِفُونَهَا وَمَا سب کامل صفتوں کا مالک ہے عنقریب وہ تمہیں اپنے نشان رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ۔ 2 دکھلائے گا ایسے نشان کہ تم ان کو شناخت کرلو گے اور خدا إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا تمہارے عملوں سے غافل نہیں ہے۔ ہم نے تمہاری طرف یہ عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا ۔ رسول اسی رسول کی مانند بھیجا ہے کہ جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ہے۔ اور اگر آپ یہ کہیں کہ ہم اولیاء اللہ کے الہام کو مانتے ہیں اور اس کو خاصہ امت محمد یہ بھی جانتے ہیں ۔ مگر اس الہام الہام کو کو جو اولیاء کو ہوتا ہے علم قطعی کا موجب نہیں سمجھتے بلکہ علم ظنی کا موجب سمجھتے سمج ہیں تو یہ قول آپ کا صرف ایک وسوسہ ہے جس پر کوئی دلیل عقلی یا علی قائم نہیں ہو سکتی بلکہ تجر بہ صحیحہ ومتواترہ اور آیات محکمہ فرقانی اس کے ابطال پر دلائل قائم کرتی ہیں اور در حقیقت ایسے وساوس انہیں لوگوں کے دلوں میں اٹھتے ہیں کہ جو الہام الہی کی کامل روشنی سے بے خبر ہیں اور علم لدنی کی قدرشناسی سے بے بہرہ ہیں اور جن بے انتہا مراتب یقین اور معرفت تک خدا اپنے طالبوں کو پہنچا سکتا ہے ان عطیات الہیہ سے غافل ہیں۔ ان کو یہ سمجھ نہیں کہ جس خدا نے اپنے بندوں کے دلوں میں لدنی علم کو یقینی طور پر حاصل کرنے کے لئے سخت جوش ڈالا ہے اور ان کو پوری معرفت اور پوری بصیرت اور پورے نور تک پہنچنے کے لئے اپنے غیبی جذبات سے بے قرار کر دیا ہے ۔ وہ خدا وند کریم ایسا نہیں ہے کہ ان کے جوشوں اور ان کے دردوں اور ان کی عاشقانہ سعی اور سرگرمی کو ضائع کرے ۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ جس قدر اس نے بھوک بھڑ کا دی۔ اس قدر روٹی عطا نہ کرے اور جس قدر پیاس لگا دی اس قدر پانی نہ پلاوے ۔ ایک اس کے لئے مرتا ہے اور اُس کی معرفت کو الانفال: ۵۳ ۲ البقرة : ۱۳۸ ۳ المؤمنون: ۹۶ ۴ یونس ۲۱ ۵ النمل: ۹۴