براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 226
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۲۴ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۰۴ تقریر میں بکمال صحت و حقانیت اور بہ نہایت متانت و بلاغت بیان کر سکتا ہے ۔ اس کے مقابلے پر کوئی دوسرا شخص جس کو فن طبابت سے ایک ذرہ مس نہیں بقيا به حاشي شیه نمبر اس کو بیان کیا ہے۔ بطور کتھا یا قصہ نہیں ۔ دوسری یہ خوبی کہ اس میں تمام ضروریات علم معاد کی تفصیل کی گئی گئی ہے ہے ۔ ۔ او اور پھر فرمایا۔ اِنَّهُ لَقَوْلُ فَصل و وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ - یعنی علم معاد L میں جس قدر تنازعات اٹھیں سب کا فیصلہ یہ کتاب کرتی ہے۔ بے سود اور بیکار نہیں ہے ۔ اور پھر فرمایا ۔ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ - الجزو نمبر ۱۴۔ یعنی ہم نے اس لئے کتاب کو نازل کیا ہے تا جو اختلافات عقول ناقصہ کے باعث سے پیدا ہو گئے ہیں یا کسی عمداً افراط و تفریط کرنے سے ظہور میں آئے ہیں ان سب کو دور کیا جائے ۔ اور ایمانداروں کے لئے سیدھا راستہ بتلایا جاوے۔ اس جگہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو فساد بنی آدم کے مختلف کلاموں سے پھیلا ہے اُس کی اصلاح بھی کلام ہی پر موقوف ہے یعنے اس بگاڑ کے درست کرنے کے لئے جو بیہودہ اور غلط کلاموں سے پیدا ہوا ہے ایسے کلام کی ضرورت ہے کہ جو تمام عیوب سے پاک ہو کیونکہ یہ نہایت بدیہی بات ہے کہ کلام کا رہنزدہ کلام ہی کے ذریعہ سے راہ پر آ سکتا ہے ۔ صرف اشارات قانون قدرت تنازعات کلامیہ کا فیصلہ نہیں کر سکتے اور نہ گمراہ کو اس کی گمراہی پر بصفائی تمام ملزم کر سکتے ہیں ۔ جیسے اگر حج نہ مدعی کی وجوہات بہ تصریح قلمبند کرے ۔ نہ مدعا علیہ کے عذرات کو بدلائل قاطعہ توڑے تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ صرف اس کے اشارات سے فریقین اپنے اپنے سوالات و اعتراضات و وجوہات کا جواب پالیں اور کیونکر ایسے مبہم اشارات پر جن سے کسی فریق کا باطمینان کامل رفع عذر نہیں ہوا حکم اخیر مترتب ہو سکتا ہے ۔ اسی طرح خدا کی حجت بھی بندوں پر تب ہی پوری ہوتی ہے کہ جب اس کی طرف سے یہ التزام ہو کہ جو لوگ غلط تقریروں کے اثر سے طرح طرح کی بد عقیدگی میں پڑ گئے ہیں ان کو بذریعہ اپنی کامل و صحیح تقریر کے غلطی پر مطلع کرے اور مدلل اور واضح بیان سے ان کا گمراہ ہونا ان کو جتلا دے تا اگر اطلاع پا کر پھر بھی وہ باز نہ آئیں اور غلطی کو ل الطارق : ۱۴ ، ۱۵ ۲ النحل : ۶۵