آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 256

روحانی خزائن جلد ۲۵۶ الحق مباحثہ دہلی ۱۲۶ لاختها في الشدة وقيل المعنى لتركبن ايها الانسان حالا بعد حال من كونك نطفة ثم علقة ثم مضغة ثم حيا وميتا و غنيًا و فقيرًا ـ قال مقاتل طبقا عن طبق يعنى الموت و الحيوة و قال عكرمة رضيع ثم فطيم ثم غلام ثم شاب ثم شيخ و عن ابن مسعود قال يعني السماء تنفطر ثم تنشق ثم تحمر و قيل يعني الشدائد واهوال الموت ثم البعث ثم العرض و قيل لتركبن سنن من كان قبلكم كما ورد في الحديث الصحيح انتهى حاصله وملخصه۔ بالا خراب ناظرین کی خدمت میں ایک گزارش ضروری یہ ہے کہ جناب مولوی صاحب نے پرچہ نمبر دوم میں فرمایا ہے ۔ کہ بیضاوی میں لکھا ہے کتب الله لاغلبن انا و رسلي بالحجة " ظاہر ہے کہ لوح محفوظ میں جب لکھا تھا اس وقت اور اس سے پہلے غلبہ متصور نہ تھا کیونکہ غلبہ کے لیے غالب مغلوب ضروری ہیں اُس وقت نہ رسل تھے نہ اُن کی امت تھی یہ سہ امت بھی یہ سب بعد اس کے ہوئے ہیں انتھی ۔ یہ ہیچمدان مولوی صاحب کے قول کی اور تائید کرتا ہے کہ جناب نے بیضاوی کا حوالہ جس کی تفسیر کو آیت لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ میں آپ محض باطل اور غلط فرما چکے ہیں ناحق تحریر فرمایا۔ خود قرآن شریف میں موجود ہے بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ فِي لَوْحٍ مَّحْفُوظ ظاہر ہے کہ کتابت لوح محفوظ کی سب سے سابق ہے زمانہ ماضی و حال و استقبال جمله از منه ثلاثه کتابت لوح محفوظ سے زمانہ استقبال میں واقع ہیں فیصلہ شد۔ مولوی صاحب نے تمام نزاع استمرار و ماضی و حال حضرت اقدس مرزا صاحب کا ختم کر دیا۔ و الله الحمد ہوئی ماضی و یا کہ حال ہوا چلو جھگڑا ہی انفصال ہوا چونکہ مولوی صاحب کا اقرار پر چہ ثانی میں بدیں خلاصہ مضمون مندرج ہو چکا ہے کہ اصل اور عمدہ بحث کل ابحاث مندرجہ پر چہ ہائے ثلاثہ کی بحث نون تاکید کی ہے پس جبکہ نون تاکید کا نزاع ہی سب ختم ہو چکا ۔ لہذا کل پر چہ ہائے ثلاثہ کا جواب بھی ختم ہو گیا ۔ مگر بفرمائش بعض احباب بطور قال و اقول کے بھی جواب دیا جاتا ہے۔ قال اگر جناب مرزا صاحب الی قولہ تو میں اپنے اس مقدمہ کو غیر صحیح تسلیم کر لونگا ۔ اقول حضرت اقدس مرزا صاح مرزا صاحب تفاسیر معتبرہ اور آیات بینات سے یہ بات ثابت فرما چکے کہ فان حـقـيـقـة الكلام للحال و لا البروج : ۲۲-۲۳