آسمانی فیصلہ — Page 255
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۵۵ الحق مباحثہ دہلی زمانه حال و استقبال مراد الہی ہیں زمانہ استقبال کی کوئی تخصیص ضروری نہیں ہے اسی واسطے ۱۲۵ ترجمہ اسکا مولانا شاہ ولی اللہ صاحب نے بلفظ مضارع کیا ہے۔ والبته بشناسی ایشان را در اسلوب سخن - آیت لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَ بِمَا عَمِلْتُمْ ! اگر صرف زمانہ استقبال ہی مراد مان لیا جائے تو حضرت اقدس مرزا صاحب کو کچھ مضر نہیں زمانہ حال کا ارادہ اُن کے نزدیک لازم اور واجب نہیں اور اس آیہ میں جو خالص زمانہ استقبال مراد ہوا تو اس کا سبب یہ ہے کہ سیاق آیت میں قرائن صارفہ عن ارادة الحال موجود ہیں کیونکہ یہ آیت جواب ہے زعم کفار کا کہ بعث ہرگز نہ ہو گا لہذا جواب میں بھی صرف استقبال مراد ہوا ۔ قال الله تعالى - زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلَى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَلِكَ عَلَى اللهِ يَسِير ۲ ۲۸/۵ ظاہر ہے کہ لن مضارع کو خالص استقبال کے واسطے کر دیتا ہے پس جبکہ زعم کفار صرف نفی بحث استقبال کے واسطے تھا تو جواب اور اُن کی رد میں بھی صرف استقبال ہی مراد لیا گیا۔ پس یہاں پر ایک قرینہ صارفہ عن ارادة زمان الحال موجود ہے۔ اور اگر آغاز بعث کا وقت موت سے لیا جاوے اور انتہا اس کا یوم النشور اور حشر اجساد تک ہو بلحاظ حدیث صحیح کے کہ من مات فقد قامت قيامته وارد ہے تو زمانہ حال بھی مراد ہو سکتا ہے۔ آیت لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ سے میں لام تاکید جو حال کے واسطے آتا ہے معہ نون تاکید ثقیلہ کے موجود حال و استقبال دونوں زمانہ مراد ہیں۔ نہیں معلوم مولوی صاحب نے اکثر آیات گزشتہ جن میں بحسب مقامات کہیں حال و استقبال دونوں مراد ہیں اور کہیں دوام تجد دی مراد ہے۔ خصوصاً آیت ھذا کو خالص استقبال کے واسطے کیوں قرار دیا ہے۔ آیت ھذا کی تفسیر ملخصاً فتح البیان سے لکھی جاتی ہے تا کہ ناظرین کو ثابت ہو کہ خالص استقبال کا التزاماً مراد ہونا اس آیہ میں محض غلط اور باطل اور مخالف ہے تفسیر حضرت تئمہ محدثین حضرت نواب صاحب بہادر مغفور و مرحوم کے۔ حضرت مرحوم نے تفسیر آیت مذکورہ میں جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے۔ حالا بعد حال قالى الشعبى و مجاهد لتركبن يـا مـحـمـد سماء بعد سماء قال الكلبي يعنى تصعد فيها و هذا على القراءة الاولى وقيل درجة بعد درجة و رتبة بعد رتبة في القرب من الله و رفعة المنزلة و قيل المعنى لتركبن حالا بعد حال كل حالة منها مطابقة أن التغابن : الانشقاق : ۲۰