آسمانی فیصلہ — Page 224
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۲۴ الحق مباحثہ دہلی رفع ہوا ہے ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۔ مولوی صاحب ایسے مباحثہ کا اس ہیچمد ان سے اخفا کرنا جس کی نسبت سنتا ہوں کہ ہمارے مولوی صاحب کو فتح ہوئی اور حضرت مرزا صاحب کی شکست اور برملا ایک شہر کلاں دہلی میں واقع ہوا۔ ہر ایک تحریر پر فریقین کے دستخط ہوئے۔ جس میں تحریف و تبدیل کی گنجائش نہیں اور عنقریب بذریعہ طبع اس کو آپ شائع بھی کرنے والے ہیں خواہ ادھر سے شائع ہو یا نہ ہو پھر اس کے اخفا میں کیا مصلحت تھی ، نہاں کے ماند آں رازے کز و سازند محفلہا ۔ اگر کوئی مقدمہ اس کا بطور مقاصد کے لکھا جا رہا ہے جیسا کہ سننے میں آیا ہے تو وہ بعد از جنگ یاد آید کا مصداق ہے۔ اصول مقاصد مباحثہ میں اس کو دخل ہی کیا ہے ۔ جملہ مقدمات مقاصد جو مناط اور مدار استدلال ہیں سب اس میں موجود اور مرتب ہو چکے ہوں گے پھر اس کے اخفا میں کبھی تو یہ عذر فرمانا کہ وہ تحریرات ابھی پراگندہ ہیں اس لئے بالفعل بھیج نہیں سکتا ہوں اور کبھی اس کے اخفا میں کسی مصلحت کی رعایت فرمانا ہم ناقص میں نہیں آتا خصوصاً ایسی حالت میں کہ پیچید ان آپ کو اظہار حق وصواب میں ایک شمشیر برہنہ تصور کرتا ہے۔ الحاصل جب کہ اس ہیچمد ان کی نسبت زبانی یہ تاکید تھی کہ یہ مباحثہ تجھ کو جب سنایا جاوے گا کہ تو اس میں بالکل خاموش رہے اور پھر با وجود قبول کر لینے اس شرط کے وہ سنایا بھی نہ گیا کہ مصلحت کے خلاف تھا تو اب احقر کو واسطے مباحثہ کے امر فرمانا مناقض اس امر کے ہے جس کا حکم اول ہو چکا ہے امور متناقضہ کے ساتھ کسی مجھ سے عاجز ناتوان یا بیچمیدان کا مکلف کرنا تکلیف مالا يطاق ہے لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا اب اگر مباحثہ ہی مطلوب ہے تو اول وہی مباحثہ دہلی واسطے مطالعہ کے روانہ فرمایا جاوے اسی پر نظر عاجز ہوسکتی ہے۔ L گزارش ثانی مدت تخمینا سات آٹھ ماہ کی گذری ہوگی کہ جب حضرت مرزا صاحب کے بارے میں فیما بین احقر و جناب کے تذکرہ ہوا کرتا تھا تو جناب نے اس پیچید ان کو یہ مشورہ بدیں خلاصہ مضمون دیا کہ اس بارہ میں بر ملا گفتگو ہونا مناسب نہیں عوام بھڑک جاتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ خلوت میں ہی گفتگو ہوا کرے احقر نے بھی اس کو مصلحت سمجھ کر قبول کیا اور یہ قرارداد ہوا کہ تمہارے ہی مکان میں یہ جلسہ ہوا کرے گا۔ چنانچہ خلوت میں تین جلسے ہوئے اور پیچید ان نے اللہ تعالیٰ کو شاہد کر کر اول بدیں خلاصہ البقرة : ۲۸۷