آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 223

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۲۳ الحق مباحثہ دہلی ایک ایسے نامی گرامی شخص کو جو دنیا بھر میں معروف و مشہور ہے شکست دی ہے پھر اس ہیچمدان و نالائق ۹۳ سے درخواست مباحثہ کیوں ہے۔ من المثل السائر في الورى وكل الصيد في جوف الفرى یه امر مجرب ہے۔ کہ اعالی پر فتح پا کر ادنی کی طرف توجہ نہیں رہتی ۔ یا الہی ! یہ عالم رویا ہے یا یقظه کیونکہ جناب کا صرف درخواست مباحثہ کرنا اس ہیچمد ان سے خصوصاً کل بروز جمعہ جلسہ وعظ میں باعث نہایت عزت اور فخر کا ہے اگر چہ رو برو جناب کے بیچمید ان محض ساکت و صامت ہی ہو جاوے تو بھی باعث فخر ہے اکھاڑے میں نامی پہلوان سے بھاگے ہوئے کو بڑی عزت حاصل ہو جاتی ہے۔ کاش اگر یہ درخواست مباحثہ قبل اس فتح عظیم کے واقع ہوتی تو بھی شائد اپنے موقع اور محل پر ہوتی ۔ یا الہی یہ ترقی معکوس کیسی ہے۔ ۔ اینکه می بینم به بیداریست یا رب یا بخواب ۔ ہر حال اس خواب کی تعبیر جو خیال ناقص میں آئی ہے خیر لنا وشر لاعدائنا پھر عرض کروں گا ۔ جواب عنایت نامہ گزارش کرتا ہوں ۔ گزارش اول جناب والا نے بر وقت تشریف آوری کے دہلی سے جب نیازمند خدمت مبارک میں حاضر ہوا تو زبان فیض ترجمان سے یہ مضمون ارشاد فرمایا تھا الفاظ کچھ ہوں مگر مطلب یہی تھا کہ یہ مباحثہ میرا على الرغم مولانا سید نذیر حسین صاحب و محمد حسین وغیرہ کے واقع ہوا ہے بلکہ ان علماء نے بہ سبب نہ شریک کرنے انکے کے مباحثہ میں حتی کہ جلسہ بحث میں بھی جب شریک نہ کیا تو بخدمت حضرت مرزا صاحب سلمہ ان علما نے یہ تحریر کر بھیجا کہ اس مباحثہ کی فتح و شکست کا اثر ہم پر نہ پہنچے گا اور یہ خبر سب دہلی میں بھی مشہور ہوگئی تھی اور یہ بات علاوہ ہے کہ یہ درخواست فریق ثانی کی تھی مگر آپکی رائے عالی بھی یہی تھی۔ اسی ضمن میں اور بھی چند باتیں ارشاد فرمائیں جن کو پھر عرض کروں گا۔ آخر اسی جلسہ میں یہ بھی فرمایا کہ بشرط اسکے کہ تم ہماری تحریر میں کوئی نقص وجرح نہ کرو تو ہم اسکو سنا بھی دیویں گے۔ اس پر امنا وسلّمنا کہا گیا اور وعدہ یہ قرارداد پایا کہ غریب خانہ پر بوقت صبح آپ تشریف لاویں گے اور خلوت میں سب سنا دیا جاوے گا ۔ صبح کو بیچمید ان منتظر رہا کہ مولوی صاحب حسب الوعدہ اب تشریف لاتے ہوں گے الكريم اذا وعد وفا لیکن یہ امید مبدل بیاس ہو گئی اے بسا آرزو کہ خاک شدہ صرف نوازش نامہ صادر ہوا جس میں چند امور تحریر فرمائے گئے تھے منجملہ ان کے خلف وعدہ کا یہ عذر تھا۔ کہ یہ مباحثہ تم کو تمہارے مکان پر سنانا و جتانا خلاف مصلحت ہے کیونکہ خدا خدا کر کر تو مجھ پر سے الزام و اتہام ۹۴