آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 550

آریہ دھرم — Page 35

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۵ آریہ دھرم اگر کوئی مسلمان تمہیں نیوگ کا طعنہ دے تو تم طلاق کا طعنہ دے دیا کرونگر نیوگ سے انکارمت کرو کہ اس میں کچھ بھی دوش نہیں بیشک مزہ سے نیوگ کرو اگر ہم سے ناراض ہو تو خیر کسی اور سے۔ ایک سے نہیں دوسرے سے دوسرے سے نہیں تیسرے سے آخر ضرور مطلب حاصل ہوگا۔ تمہاری پڑوسن ہر وکی نے پندرہ برس تک مجھ سے ہی نیوگ کرایا تھا ایشر کی کر پاسے دش پتر ہوئے جو اب تک زندہ موجود ہیں اور ایک مدرسہ میں پڑھتا ہے چنانچہ اب تک رلیا رام ہر دئی کا شوہر ہمارا احسان مند ہے اور بہت کچھ سیوا کرتا ہے اور ہمارا گن گاتا ہے کہ تم نے ہی مجھے پتر دیئے تم بھی اگر چاہو تو ہم حاضر ہیں اور تمہاری ابھی دستھا کیا ہے تیرہ چودہ سال کی عمر ہو گی برابر نیوگ کراتی رہو۔ ہاں یہ مشورہ ضرور دیتا ہوں کہ برہمن کا بیچ چاہئے موتی جیسے پتر ہوں گے اور کیا چاہتی ہو۔ رام دئی یہ باتیں سن کر آگ بولا ہو گئی اور بولی کہ اے پاجی پنڈت تیری استری نرائن دئی کو بھی تو اب تک کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا تو اس کا نیوگ کیوں نہیں کراتا تا اچھے اچھے سندر بچے پیدا ہوں بلکہ میں نے تو سنا ہے کہ تیری لڑکی بشن دئی بھی اب تک بچوں کو ترستی ہے اس کا بھی نیوگ کرا۔ تب پنڈت رام دئی کی یہ باتیں سنکر اندر ہی اندر جل گیا اور مارے غصہ کے منہ لال ہو گیا کہ اُس نے میری استری اور بیٹی کا کیوں نام لیا اور بہت جل سڑ کر بولا کہ ہم نیوگ کرایا نہیں کرتے ۔ ہم تو ہمیشہ بیرج داتا ہی مقرر کئے جاتے ہیں ۔ رام دئی نے کہا کہ اب مجھے معلوم ہوا کہ تمہیں لوگ قوم کی مٹی پلید کر رہے ہو اگر تم سچ مچ وید کو سچا جانتے تو پہلے وید کے ایسے حکموں پر تم آپ ہی عمل کر کے دکھلاتے پر عمل کرنا تو کہاں تم تو ایسی نصیحت کو سن بھی نہیں سکتے اس سے صاف ظاہر ہے کہ تم لوگ صرف منہ سے ہی ویدوید کرتے ہو اور حقیقت میں وید کی تعلیموں سے سخت بیزار ہو اور ہر بات میں اپنا پہلو او پر ہی رکھا ہے نیوگ کا مسئلہ بھی شاید اسی لئے بنایا گیا کہ تا برہمنوں کی زنا کاری اس پردہ میں چھپی رہے ور نہ اپنی بے اولا د عورتوں اور بہو بیٹیوں کا نیوگ کیوں نہیں کراتے ۔ کیا وہ اس شہر میں کم ۳۱ ہیں ۔ پنڈت بولا بھاگوان تجھے خبر نہیں تمام رشی رکھی نیوگ کراتے آئے ہیں لیکن ایک برہمنی گھتری سے نیوگ نہیں کر اسکتی اور برہمن ایک لاکھ کھترانی سے بھی کر سکتا ہے یہی بھید ہے