آریہ دھرم — Page 34
روحانی خزائن جلد ۱۰ الله له آریہ دھرم یہ کہنے لگا کہ مہاراج آپ جانتے ہیں کہ وید میں وقت ضرورت نیوگ کیلئے آ گیا ہے۔ سو میں نے بہت دنوں سوچ کے سوچ کر رات کو نیوگ کرایا تھا مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ میں نے نیوگ کے لئے مہر سنگھ کو بلا لیا پیچھے معلوم ہوا کہ وہ میرے دشمن کرم سنگھ کا بیٹا اور نہایت شریر آدمی ہے وہ مجھے اور میری استری کو ضرور خراب کرے گا اور وہ وعدہ کر گیا ہے کہ میں یہ ساری کیفیت خوب شائع کروں گا نہال چند بولا کہ در حقیقت بڑی غلطی ہوئی اور پھر بولا کہ وسا وامل تیری سمجھ پر نہایت ہی افسوس ہے کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ نیوگ کے لئے پہلا حق برہمنوں کا ہے اور غالباً یہ بھی تجھ پر پوشیدہ نہیں ہوگا کہ اس محلہ کی تمام گھترانی عورتیں مجھ سے ہی نیوگ کراتی ہیں اور میں دن رات اسی سیوا میں لگا ہوا ہوں پھر اگر تجھے نیوگ کی ضرورت تھی تو مجھے بلا لیا ہو تا سب کام سدھ ہو جاتا اور کوئی بات نہ نکلتی اس محلہ میں اب تک تین ہزار کے قریب ہندو عورتوں نے نیوگ کرایا ہے مگر کیا کبھی تم نے اس کا ذکر بھی سنا یہ پردہ کی باتیں ہیں سب کچھ ہوتا ہے پھر ذکر نہیں کیا جاتا لیکن مہر سنگھ تو ایسا نہیں کرے گا ۔ ذرہ دو چار گھنٹوں تک دیکھنا کہ سارے شہر میں رام دئی کے نیوگ کا شور و غوغا ہوگا لالہ دیوث بولا کہ در حقیقت مجھ سے سخت غلطی ہوئی اب کیا کروں ۔ اُس وقت شریر پنڈت نے جو باعث نہ ہو نے رسم پردہ کے رام دئی کو دیکھ چکا تھا کہ جوان اور خوش شکل ہے نہایت بے حیائی کا جواب دیا کہ اگر اسی وقت رام دئی مجھ سے نیوگ کرے تو میں ذمہ دار ہوتا ہوں کہ مہر سنگھ کے فتنہ کو میں سنبھال لوں گا اور پہلا حمل ایک شکی بات ہے اب بہر حال یقینی ہو جائے گا ۔ تب وسا وامل دیوث تو اس بات پر بھی راضی ہو گیا مگر رام دئی نے سنکر سخت گالیاں اُس کو نکالیں تب وسا وامل نے پنڈت کو کہا کہ مہاراج ۳۰ اس کا یہی حال ہے ہرگز نیوگ کرنا نہیں چاہتی پہلے بھی مشکل سے کرایا تھا جس کو یاد کر کے اب تک رورہی ہے کہ میرا منہ کالا کیا اسی سے تو اس نے چیخیں ماری تھیں جن کو آپ سن کر دوڑے آئے تب وہ شہوت پرست پنڈت وسا وامل کی یہ بات سن کر رام دئی کی طرف متوجہ ہوا اور کہا نہیں بھاگوان نیوگ کو برا نہیں ماننا چاہئے یہ وید آ گیا ہے مسلمان بھی تو عورتوں کو طلاق دیتے ہیں اور وہ عورتیں کسی دوسرے سے نکاح کر لیتی ہیں سو جیسے طلاق جیسے نیوگ بات ایک ہی ہے