آریہ دھرم — Page 24
روحانی خزائن جلد ۱۰ الد آریہ دھرم سو ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی نظر سے پوشیدہ نہیں آخر بری طرح مرتے ہیں ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ وید نے خود یہ حکم دیا ہے کہ زندہ خاوند والی عورت اولاد کے لالچ اد کے لالچ سے دوسرے شخص سے ہم بستر ہوا کرے کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ پنڈت دیانند نے بھی انہیں معنوں کو تسلیم کیا ہے کیا یہ درست نہیں کہ منو نے بھی یہی لکھا ہے اور یا گولگ نے بھی یہی۔ پھر ذرا سوچو تو سہی کہ کونسی زیادتی ہے جو ہم سے ظہور میں آئی اور کونسا دھوکا ہے جو ہم نے لوگوں کو دیا ہے اب اپنے اُن گندے الفاظ کو سوچو جو کاغذ پر قلم رکھتے ہی منہ سے نکالے اور کہا کہ یہ تعصب اور اندرونی خبث کا نتیجہ ہے اب سچ کہو کہ کس کا اندرونی خبث ثابت ہوا ہم کسی کو گالی نہیں دیتے اور نہ کسی کو برا کہتے ہیں صرف انصاف کی رو سے تمہارے ہی الفاظ تمہیں واپس دیتے ہیں اور آپ لوگوں کا اپنے اشتہار میں یہ لکھنا کہ وید کی رو سے نیوگ کی حقیقت یوں ہے و ڈھوا استری (یعنی بیوہ عورت ) یا جس پرش کی استری مرگئی ہوا اپنی عمر وید پڑھنے اور ست شاستروں کے پڑھنے پڑھانے میں بسر کرے۔ یہ کیسا دھوکا ۲۱ دینا ہے اور کیسا خیانت کا طریق ہے اول تو نہ آپ لوگوں نے اور نہ دیانند نے اس دعوی کی تائید میں وید کا کوئی منتر لکھا پھر اگر فرض کے طور پر قبول بھی کر لیں کہ یہ وید ہی کے کسی نامعلوم منتر کا ترجمہ ہے تو اس کو ہماری اس بحث سے تعلق ہی کیا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ اس کو اس موقع پر کیوں پیش کیا گیا ہے ہم نے کب اور کس وقت کہا تھا کہ بیوہ کو شاستر پڑھنا پڑھانا منع ہے بیوہ کے نیوگ کا تو ہم نے پہلے اشتہار میں کچھ بھی ذکر نہیں کیا تھا صرف ایسی عورتوں کے نیوگ کا ذکر تھا جن کا خاوند زندہ موجود ہو اور پھر خاوند والی عورتوں کے لئے ہم نے وید اور منو اور دیانند کے بھاش سے نیوگ ثابت کر دیا تھا پھر یہ کیسا خبط ہے کہ ذکر تو خاوند والی عورت کا تھا مگر اشتہار شائع کرنے والوں نے اس بحث کی رد میں تو کچھ نہ لکھا اور بیچاری بیوہ کو لے بیٹھے ۔ اب ہمیں وہ آپ ہی بتلاویں کہ کیا یہ پاک باطنی کا طریق ہے یا قدیم تعصب اور اندرونی خبث ہے؟ اے غافلو ! ذرا آنکھیں کھولو اور دل کو سیدھا کرو اور سوچو کہ اس وقت بحث تو یہ ہے کہ ہم وید کی شرتی اور پنڈت دیانند کے بھاش سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جو آریہ بیوی والا ہو اور رنڈا