آریہ دھرم — Page 20
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۰ آریہ دھرم और गर्भवती स्त्री से एक वर्ष समागम न करने के समय में पुरुष व स्त्री اسٹین کردے से न रहा जाए तो किसी से नियोग करके उसके लिए पुत्रोतपत्ति कर दें परन्तु वेश्यागमन वा व्यभिचार कभी न करें।॥ सत्यार्थ॥ جن دے تشریح عبارت مذکورہ بالا میں پنڈت دیانند کی تقریر کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اگر عورت کے حاملہ ہونے کی حالت میں مرد یا عورت پر ایسی شہوت غالب ہو کہ ان سے رہا نہ جائے تو مرد اور عورت کسی سے نیوگ کر کے اس کو اولاد جن دیں۔ اس تقریر پر بظاہر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ بھلا یہ بات تو ممکن ہے کہ مرد نیوگ کر کے کسی اور عورت کو بچے جنا دے مگر یہ کیونکر ممکن ہو گا کہ ایک حاملہ عورت کسی دوسرے سے نیوگ کر کے اُس کیلئے جنا دے کیونکہ اُس کو تو خود پہلے حمل ہے۔ اور ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ جس حالت میں مرد اور عورت میں سے کوئی بھی بیمار نہیں تو پھر کیا ضرور ہے کہ وہ دوسرے سے نیوگ کریں کیا وجہ کہ باہم ہم بستر نہ ہوتے رہیں تو اس دوسرے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ حمل کی حالت میں وید کی رو سے خاوند کو اپنی عورت سے جماع کرنا حرام ہے لیکن اگر یہ مشکل آپڑے کہ خاوند اور عورت دونوں نہ رہ سکیں تو اس صورت میں وید آ گیا یہ ہے کہ دونوں نیوگ سے اپنا منہ کالا کریں۔ اور پہلا سوال یعنی ایک عورت حمل کی حالت میں دوسر احمل کیونکر کر اسکتی ہے اس کا جواب غالباً پنڈت صاحب یہ سمجھتے ہوں گے کہ شو پر ان کی رو سے جو مسئلہ نیوگ میں حجت ہے حمل پر حمل بھی ہو سکتا ہے لیکن ہم اس مسئلہ میں پنڈت دیانند کی تائید کر کے لکھتے ہیں کہ یہ بیان کچھ شو پر ان پر ہی موقوف نہیں بلکہ حال کی تحقیقات جدیدہ کی رو سے بھی یہ بات ثابت ہوگئی ہے اور ڈاکٹروں نے اس میں مشاہدات پیش کئے ہیں چنانچہ ایک ڈاکٹر صاحب یعنے مصنف رسالہ معدن الحکمت اپنی کتاب کے صفحہ ۶۳ میں لکھتے ہیں کہ ایک حمل پہلے حمل کے بعد کچھ دنوں کے فاصلہ سے ٹھہر سکتا ہے اور اُس کے ثبوت میں سے ایک یہ ہے کہ بیک صاحب اپنا مشاہدہ لکھتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ۱۷۱۴ء میں ایک گوری عورت کے دولڑ کے ایک کالا دوسرا گورا تھوڑی دیر کے بعد ۱۸ فاصلہ سے پیدا ہوئے اور تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اُس کے خاوند کے بعد ایک حبشی نے مجامعت