آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 550

آریہ دھرم — Page 14

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۴ آریہ دھرم ہمارے سید و مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹھا الزام لگا کر ہمارا دل دکھایا ہے اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ اب ان باتوں کا ایک جوڈیشل تحقیقات کی طرح فیصلہ ہو جاوے کہ در حقیقت کون غلط بیان اور قدیمی متعصب اور خبیث النفس ہے ندارد کسی با تو نا گفته کار ولیکن چو گفتی لیلش بیار ۱۲ اس لئے ہم اس رسالہ کے ساتھ ایک سوپیہ کا اشتہار بھی دیتے ہیں کہ اگر یہ بات خلاف نکلے کہ پنڈت دیا نند نے وید کے حوالہ سے نہ صرف بیوہ کا غیر سے بغیر نکاح کے ہم بستر ہونا ستیارتھ پر کاش میں لکھا ہے بلکہ عمدہ عمدہ وید کی شرتیاں کا حوالہ دے کر اس قسم کے نیوگ کو بھی ثابت کر دیا ہے کہ خاوند والی عورت اولاد کے لئے غیر سے نطفہ لیوے اور غیر اس سے اُس مدت تک بخوشی ہم بستر ہوتا رہے جب تک کہ چند لڑ کے پیدا نہ ہو لیں تو ہم اس بیان کے خلاف واقعہ نکلنے کی صورت میں نقد سو روپیہ اشتہار جاری کرنے والوں کو دیدیں گے اور اُس وقت وہ گالیاں جو اشتہار میں لکھی ہیں ہمارے حق میں راست آئیں گی ۔ اگر روپیہ ملنے میں شک ہو تو ان چاروں شخص صاحبوں میں سے جو شخص چاہے با با ضابطہ رسید دینے کے بعد وہ رو پید اپنے پاس جمع جمع کر کرائے اور ہر طرح سے تسلی کر لیں اور ہمیں یہ ثبوت دیں کہ خاوند والی عورت کا نیوگ جائز نہیں اور اگر اس رسالہ کے شائع ہونے سے ایک ماہ کے عرصہ میں جواب نہ دیں تو اُن کی ہٹ دھرمی ثابت ہوگی اور ثابت ہو گا کہ در حقیقت وہ لوگ آپ ہی خبیث النفس اور قدیمی متعصب اور غلط بیان ہیں جو کسی طرح ناپاکی کے راہ کو چھوڑ نا نہیں چاہتے۔ اے منصفوتم خود سوچو کہ ہم اس سے زیادہ کیا کر سکتے ہیں اور اس سے بڑھ کر ہمارے صدق کی اور کونسی علامت ہوگی کہ ہم اپنی سچائی کے ثابت کرنے کے لئے نقد سور و پیر ان کو دیتے ہیں اور ان کے پاس جمع کراتے ہیں۔ اب ثابت ہو جائے گا کہ خبیث النفس اور متعصب اور سیچ سے منہ پھیرنے والا کون ہے۔ یہی تحریر ہماری بجائے اشتہار کے ہے۔ اب اول هم وید بھومکا سے وہ مقام ناظرین کو دکھلاتے ہیں جس کی طرف ان آریوں نے پناہ لینا چاہا ہے تاہر ایک منصف کو معلوم ہو کہ حق پوشی کی غرض سے کہاں کہاں یہ لوگ بھاگتے پھرتے ہیں اور آخر وہی بات نکلتی ہے جس کو چھپانا چاہتے ہیں۔