آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 550

آریہ دھرم — Page 13

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۳ آریہ دھرم کہ دروغ گو کو اس کے گھر تک پہنچاویں کیونکہ مکاروں اور خیانت پیشوں کی سزا واجبی یہی ہے کہ ان کے خیانت کے طریقوں کو پوشیدہ نہ رکھا جائے اور سٹ اور اسٹ کو نکھیڑا جائے اسی غرض سے ہم نے اس رسالہ کو لکھا ہے تا غلط بیانی کے بیجا الزام کا فیصلہ ہو جائے کیونکہ یہ تین بد زبانیاں جو میری نسبت کی گئیں اور کہا گیا کہ یہ شخص غلط بیان اور قدیمی متعصب اور خبیث النفس ہے یہ ایسا خباثت سے بھرا ہوا بہتان ہے کہ کوئی صادق آدمی اس پر صبر نہیں کر سکتا اور نیز اس پر خاموش رہنے سے خلق اللہ کو ضرر پہنچتا ہے اور پبلک کو دھوکا لگتا ہے غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں بلکہ نہایت شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے کہ جو نہ خدا سے ڈریں اور نہ خلقت کے لعن و طعن کی پروا رکھیں اور چونکہ ناحق ان لوگوں نے گالیاں دیکر اور بے وجہ بقيه میرے خیال میں انسانی شرم نے ان کو اجازت نہیں دی اور جب میرے بعض مخلصوں نے انکو وہ مقام پڑھ کر سنایا تو پھر دوسرا عذر یہ پیش ہوا کہ یہ طریق اس حالت میں ہے کہ جب خاوند ہرگز عورت حاشیہ کے پاس جا نہ سکے۔ پھر جب کھول کر بتلایا گیا کہ ستیارتھ پرکاش میں یہ صاف لکھا ہے کہ ایسا نا مرد ہو ا ا جو نا قابل اولا د ہو پس اس میں وہ نامرد بھی داخل ہیں جو صحبت کرنے پر تو پورے قادر ہیں مگر منی قابل اولاد نہیں مثلاً منی میں کیڑے نہیں یا پتلی ہے یہ نہیں لکھا کہ ایسا ہو کہ ہر گز صحبت نہ کر سکتا ہو بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ اگر مرد قابل اولا د ہو مگر لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہوں تب بھی نیوگ ہوگا تو یہ جواب سن کر وہ لوگ خاموش ہو گئے اور ان میں سے ایک پنڈت جی بولے کہ بے شک ایسی حالتوں میں بھی نیوگ کرانا کچھ مضائقہ نہیں اور ہم ایسے نیوگ پر راضی ہیں ۔ غرض اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ عام ہدایت وید کی یہی ہے کہ آریہ لوگ ضرورتوں کے وقت اپنی بیویوں اور بہو بیٹیوں سے نیوگ کرایا کریں مگر ظاہر ہے کہ انسانی کانشنس اس کو قبول نہیں کرتا اور انسان کی فطرتی حمیت اور غیرت ہزار بیزاری سے اس کام پر لعنت بھیجتی ہے اور انسان تو انسان ایک مرغ بھی اپنی مرغیوں کے لئے غیرت رکھتا ہے اب حاصل کلام یہ ہے کہ اگر اس بارہ میں کوئی اور آریہ صاحب بھی بحث کرنا چاہتے ہوں تو ہم اپنے خرچ سے ان کو ان کی درخواست پر قادیان میں بلا سکتے ہیں ۔ اور ۱۵۔ اگست ۱۸۹۵ ء تک مہلت ہے۔ راقم ۳۱ جولائی ۱۸۹۵ ء از قادیان ضلع گورداسپور میرزاغلام احمد