آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 550

آریہ دھرم — Page 9

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۹ آریہ دھرم لکھ کر شائع کر دیں گے مگر افسوس کہ یہ امید خلاف واقعہ کلی اور اُنہوں نے کیا تو یہ کیا کہ صرف ایک گول مول اور گم اشتہار جس پر کوئی تاریخ نہیں محض یاوہ گوئی کے طور پر شائع کر دیا۔ یہ اشتہار ان کا مطبع دھرم پر چارک جالندھر میں چھپا ہے اور ہم نے بار بار اس کو پڑھا کہ کیا اس میں ہمارے سوال کا کوئی جواب بھی لکھا ہے تو معلوم بقیہ کا رہنا بھی ضروری ہے جس کی عورت سے دن رات ایک اجنبی اس کی آنکھوں کے سامنے بدکاری حاشیہ کر رہا ہے اور ایسے زانی کا نام جو پرائی عورت سے بدکاری کرے وید کی رو سے پیرج داتا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ وہ بیرج داتا اُسی عورت سے اپنے لئے بھی اولاد لے سکتا ہے اور یہ بھی درج ہے کہ اگر کسی عورت کے لڑکیاں ہی پیدا ہوں تو اس کا بھی فرض ہے کہ اپنے پتی کی اجازت سے نیوگ کرادے اور کسی بیرج داتا کو اپنے گھر میں بلاوے اور وہ اُس کی آنکھوں کے سامنے یعنی اسی گھر میں اس عورت سے صحبت کرے اور ایک دراز مدت تک کرتا رہے اب آپ لوگ معاف فرماویں کہ ہم نے آپ کے وید کی تعلیم کا یہ حصہ اس غرض سے نہیں لکھا کہ آپ کے دلوں کو دکھاویں بلکہ صرف اس استفسار کی غرض سے تحریر کیا ہے کہ کیا آپ لوگ ایسی شرتیوں کو بھی ایشر بانی سمجھتے ہیں اور کیا آپ لوگوں میں سے کسی کی انسانی حمیت اور غیرت اس بات کو قبول کرتی ہے کہ اُس کے جیتے جی نیوگ کے بہانہ سے اُس کا چھوٹا بھائی یا برادری میں سے کوئی مشٹنڈا اس کی پیاری بیوی پر صحبت کی غرض سے حملہ کرے بلکہ باجازت دید کام بھی کر ڈالے یا کوئی برہمن اس کی عورت کے ساتھ ایسی حرکت کا مرتکب ہو اور وہ با وجود قوت اور شہوت اور طاقت اور روبرو موجود ہونے کے الگ ہو بیٹھے اور کچھ چوں نہ کرے بلکہ پاس کی کوٹھری میں خاموش بیٹھا رہے اور اپنی آنکھوں سے دیکھے کہ ایک اجنبی اُس کی سہروں کی منکوحہ اور برات کی بیاہتا سے جو نام و ننگ کے خاندان سے آئی تھی ہم خواب اور بغلگیر ہے اور صرف بوس و کنار پر بس نہیں کیا بلکہ حرکت زنا سے اس کم بخت خاوند کی ساری پت اور عزت کو خاک میں ملا دیا اور پھر بھی ذرا غیرت اُس کی جوش نہ مارے۔ بقيه در ہدایت لیکر دنیا میں آیا ہو وہ صرف اُسی زبان میں آ سکتا ہے جو اُن معارف اور حاشیہ حقائق کو بیان کرنے کیلئے اپنے اندر کامل وسعت رکھتی ہو سو اس فیصلہ کے مطابق حاشیه صرف قرآن شریف ہی اللہ تعالیٰ کی وہ کامل کتاب ٹھہرتی ہے جو حقیقی اور کامل اور ابدی تعلیم لے کر دنیا میں آئی اور دوسری کتا بیں جو آسمانی کہلاتی ہیں اگر مان بھی