آریہ دھرم — Page 8
روحانی خزائن جلد ۱۰ آریہ دھرم نجات پاویں اور اگر کوئی بات اُن کو سمجھ نہ آئے گی تو ہم سے دریافت کر لیں گے یا اگر اُنکے زعم میں ہم نے خلاف واقعہ لکھا ہے تو پنڈت دیانند کے بھوم کا اور وید کے حوالہ سے وہ غلطی ہماری ہمیں دکھائیں گے اور ہمیں ملزم کریں گے اور اپنی صحیح تحقیقات معہ وید کے منتر اور پنڈت دیانند کے بھاش کے بقيه تہذیب سے کام لیا جائے پھر بھی بوجہ خبث نفس مضمون کے نا گفتنی با تیں لکھنی پڑتی ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی صاحب پیچھے سے کوئی بات زبان پر لاویں بلکہ یہ چاہتا ہوں کہ اگر کسی کا کچھ عذر ہو تو اب پیش کرلے میں بخوشی اس کے عذر کوسنوں گا اور اگر قبول کے قابل ہو تو قبول کرلوں گا کیونکہ اس حاشیه جگہ نفسانیت منظور نہیں صرف اظہار حق منظور ہے اب ضروری استفسار ذیل میں لکھتا ہوں ۔ بقيه حاشيه در استفسار اے آر یہ صاحبان آپ لوگ اس سے بے خبر نہیں کہ پنڈت دیانند صاحب نے وید کی شرتیوں کے حوالہ سے نیوگ کی تفصیل ذکر کرتے ہوئے ایک یہ بھی قسم لکھی ہے کہ اگر مرد اس مردی کی قوت سے نا قابل ہوجس سے اولاد پیدا ہو سکے تو وہ اپنی بیوی کو اجازت دیوے تاکسی دوسرے سے اولاد حاصل کرے تب وہ شخص جس کو اجازت دی گئی ہے اُسی گھر میں جہاں اُس عورت کا خاوند رہتا ہے اس کی بیوی سے ہم بستر ہوگا اور نہ صرف ایک دفعہ بلکہ کئی سال تک اور جب تک کہ دس بچے پیدا ہو جائیں وہ اس سے ہم بستری کر سکتا ہے مگر ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ عورت اپنے خاوند کی خدمت اور سیوا میں بھی لگی رہے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اُسی گھر میں اس دیوث خاوند ۔ یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یہی ایک زبان ہے جو پاک اور کامل اور علوم عالیہ کا ذخیرہ اپنے مفردات میں رکھتی ہے اور دوسری زبانیں ایک کثافت اور تاریکی کے گڑھے میں پڑی ہوئی ہیں اس لئے وہ اس قابل ہرگز ہو نہیں سکتیں کہ خدا تعالیٰ کا کامل اور محیط کلام اُن میں نازل ہو حاشیہ کیونکہ ان زبانوں کی کم مائیگی اور کبھی اور ناقص بیانی معارف الہیہ کے فوق الطاقت بوجھ کو اٹھا نہیں سکتی ۔ غرض اس کتاب میں بڑی صفائی سے اور بڑے روشن اور بدیہی دلائل سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا پاک اور کامل اور روشن اور پر اسرار اور پر حکمت کلام جو دائمی اے شاید آریہ کہیں گے کہ یہ زنا نہیں مگر جس حالت میں خاوند موجود ہے اور بیٹا بھی اسی کا بیٹا کہلائے گا اور عورت بھی اسی کی عورت رہے گی اور طلاق دی نہیں گئی تو پھر یہ زنا نہیں تو اور کیا ہے اور منو لکھتا ہے کہ نیوگ کے دنوں میں بھی خاوند کو صحبت کرنے کا اختیار ہے ۔ ( دیکھو منو )