آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 550

آریہ دھرم — Page 114

r روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۱۴ ست بچن گفت هر جانی از دستش شد پدید قادر است او جسم و جاں را آفرید فکر کن در گفته این عارفاں رو بود نانک عارف و مرد خدا وید زال راه معارف دور تر ایں نصیحت گر ز نانک بشنوی او نه از خود گفت این گفتار را وید را از نور حق مہجور یافت یعنی با وا صاحب کا یہ قول کہ سادھ کی مہما وید نجانے ۱۲ چه نالی بہر وید آریاں راز ہائے معرفت را ره گشا سادہ کی مہما نجانے بے ہنر در دو عالم از شقاوت با رہی گوش او بشنید این اسرار را از خدا ترسید و راه نور یافت اے برادر ہم تو سوئے او بیا دل چه بندی در جهان بے وفا اما بعد واضح ہو کہ ہم نے عام فائدہ کے لئے یہ رسالہ جس کے مقاصد کا ذیل میں بیان ہے تالیف کیا ہے اور ہماری غرض اس تالیف سے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ آریہ لوگ جو آج کل جلتے ہوئے تنور میں پڑے ہوئے ہیں اور زبان کی ناپاکی اور بیبا کی میں اس قدر ترقی کر گئے ہیں کہ کسی وقت بھی اُن کے دلوں کو خدا تعالیٰ کا خوف نہیں پکڑتا وہ اُس حقانی انسان کی راست گفتاری اور راست روی کو غور سے دیکھیں جس کا اس رسالہ میں ذکر ہے اور اگر ہو سکے تو اُس کے نقش قدم پر چلیں اور وہ انسان وہی ایک بزرگ دیوتا ہے جو بابر کے زمانہ میں پیدا ہو کر خدا تعالیٰ کے دین کی صداقت کا ایک گواہ بن گیا یہ انسان جس کا ابھی ہم ذکر کریں گے عوام ہندوؤں میں سے نہیں ہے بلکہ ایک ایسا شخص ہے جو لاکھوں آریوں نے اُس کی نیک بختی اور راست گوئی پر مہر کر دی ہے اور وہ ایک اول درجہ کے اُن پیشواؤں میں سے شمار کیا گیا ہے جو ہندوؤں میں گزرے ہیں اور غالباً سترہ لاکھ کے قریب پنجاب میں اُس کے فدا شدہ چیلے موجود ہیں اور وہ وہی مظلوم بزرگ ہے جس کی نسبت ناحق پنڈت دیانند آریوں کے پیشرو نے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اُس کی سوانح کے ضمن میں دیا نند کے بے جا اعتراضوں اور سب وشتم کا جواب بھی دے دیں اور وہ یہ ہے۔