آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 550

آریہ دھرم — Page 107

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۰۷ آریہ دھرم باعث تالیف آریہ دھرم دست بچن یہ بات ہر ایک کو معلوم ہے کہ ہم برسوں تک آریوں کے مقابل پر بالکل خاموش رہے تقریباً چودان برس کا عرصہ ہو گیا کہ جب ہم نے پنڈت دیا نند اور اندر من اور کنہیا لال کی سخت بد زبانی کو دیکھ کر اور اُنکی گندی کتابوں کو پڑھ کر کچھ ذکر ہندوؤں کے وید کا براہین احمدیہ میں کیا تھا مگر ہم نے اس کتاب میں بجز واقعی امر کے جو ویدوں کی تعلیم سے معلوم ہوتا تھا ایک ذرا زیادتی نہ کی لیکن دیا نند نے اپنی ستیارتھ پرکاش میں اور اندرمن نے اپنی کتابوں میں اور کنہیالال نے اپنی تالیفات میں جس قدر بد زبانی اور اسلام کی توہین کی ہے اس کا اندازہ ان لوگوں کو خوب معلوم ہے جنہوں نے یہ کتابیں پڑھی ہوں گی خاص کر دیا نند نے ستیارتھ پرکاش میں وہ گالیاں دیں اور سخت زبانی کی جن کا مرتکب صرف ایسا آدمی ہو سکتا ہے جس کو نہ خدا تعالیٰ کا خوف ہو نہ عقل ہو نہ شرم ہو نہ فکر ہو نہ سوچ ہو غرض ہم نے ان سفلہ مخالفوں کے افتراؤں کے بعد صرف چند ورق براہین میں آریوں کے خیالات کے بارہ میں لکھے اور بعد ازاں ہم باوجود یکہ لیکھرام وغیرہ نے اپنی نا پاک طبیعت سے بہت سا گند ظاہر کیا اور بہت سی توہین مذہب کی بالکل خاموش رہے ہاں سرمہ چشم آریہ اور شحنہ حق جن کی تالیف پر نو برس گزر گئے آریوں کی ہی تحریک اور سوالات کے جواب میں لکھے گئے چنانچہ سرمہ چشم آریہ کا اصل موجب منشی مرلید ھر آریہ تھے جنہوں نے بمقام ہوشیار پور کمال اصرار سے مباحثہ کی درخواست کی اور سرمہ چشم آریہ در حقیقت اُس سوال جواب کا مجموعہ ہے جو مابین اس عاجز اور منشی مرلی دھر کے مارچ ۱۸۸۶ء میں اپھر ان کتابوں کی تالیف کے بعد آج تک ہم خاموش رہے اور چودان برس سے آج تک یا اگر ہوشیار پور کے مباحثہ سے حساب کرو تو نو برس سے آج تک ہم بالکل چپ رہے اور اس عرصہ میں طرح طرح کے گندے رسالے آریوں کی طرف سے نکلے اور گالیوں سے بھری ہوئی کتابیں اور اخباریں اُنہوں نے شائع کیں مگر ہم نے بجز اعراض اور خاموشی کے اور کچھ بھی کار روائی نہیں کی پھر جب آریوں کا غلو حد سے زیادہ بڑھ گیا اور ان کی بے ادبیاں انتہا تک پہنچ گئیں تو اب یہ رسالہ آریہ دھرم لکھا گیا ہمارے بعض اندھے مولوی جو ہر یک بات میں ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں اور آریوں اور عیسائیوں کو بالکل معذور سمجھ کر ہر یک سخت زبانی ہماری طرف منسوب کرتے ہیں انکو کیا کہیں اور انکی نسبت کیا لکھیں وہ تو بخل اور حسد کی زہر سے مر گئے اور ہمارے بغض سے اللہ اور رسول کے بھی دشمن ہو گئے ۔ اے سیہ دل لوگو! تمہیں صریح جھوٹ بولنا اور دن کو رات کہنا کس نے سکھا یا گو یہ سچ ہے کہ ہم نے براھین میں ویدوں کا کچھ ذکر کیا مگر اُس وقت ذکر کیا کہ جب دیا نند ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ستیارتھ پرکاش میں صدہا گالیاں دے چکا اور اسلام کی سخت تو ہین ہوا