آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 550

آریہ دھرم — Page 106

روحانی خزائن جلد ۱۰ ١٠٦ آریہ دھرم ۷۲ تو اس کو نابود کر دیوے اور اس تمام نا اتفاقی کی جڑ مذہبی مباحثات کی بے اعتدالی ہے گورنمنٹ اپنی رعایا کے لئے بطور معلم کے ہے پھر اگر رعایا ایک دوسرے سے درندہ کا حکم رکھتی ہو تو گورنمنٹ کا فرض ہے کہ قانونی حکمت عملی سے اُس درندگی کو دور کر دے۔ چوتھی یہ کہ اہل اسلام گورنمنٹ کی وہ وفا دار رعایا ہے جن کی دلی خیر خواہی روز بروز ترقی پر ہے اور اپنے جان و مال سے گورنمنٹ کی اطاعت کے لئے حاضر ہیں اور اس کی مہربانیوں پر بھروسہ رکھتے ہیں اور کوئی بات خلاف مرضی گورنمنٹ کرنا نہایت بے جا خیال کرتے ہیں اور دل سے گورنمنٹ کے مطیع ہیں پس اس صورت میں ان کا حق بھی ہے کہ ان کی دردناک فریاد کی طرف گورنمنٹ عالیہ توجہ کرے۔ پھر یہ درخواست بھی کوئی ایسی درخواست نہیں جس کا صرف مسلمانوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور دوسروں کو نہیں بلکہ ہر یک قوم اس فائدہ میں شریک ہے اور یہ کام ایسا ہے جس سے ملک میں صلح کاری اور امن پیدا ہوتا ہے اور مقدمات کم ہوتے ہیں اور بدنیت لوگوں کا منہ بند ہوتا ہے اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے اس کا اثر مسلمانوں سے خاص نہیں ہر یک قوم پر اس کا برابر اثر ہے۔ آخر ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہماری اس گورنمنٹ کو ہمیشہ کے اقبال کے ساتھ ہمارے سروں پر خوش و خرم رکھے اور ہمیں سچی شکر گزاری کی توفیق دے اور ہماری محسن گورنمنٹ کو اس مخلصانہ اور عاجزانہ درخواست کی طرف توجہ دلا دے کہ ہر یک توفیق اُسی کے ارادہ اور حکم سے ہے آمین۔ ين اہل اسلام رعا یا گورنمنٹ جن کے نام علیحدہ نقشوں میں درج ہیں۔ مورخہ ۲۲ ستمبر ۱۸۹۵ء مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیس قادیان