آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 550

آریہ دھرم — Page 77

روحانی خزائن جلد ۱۰ 24 تا کہ کروائیں پھر اسے گندی پاک ہونے کی انتظاری ہے یعنی حیض سے پاک ہونے کی انتظار ہے خاک میں ملتے ہیں پسر کے لئے کیا مزاجوں میں خاکساری ہے قابل شرم بھیک لیتے ہیں بھیک کی رسم یہ نیاری ہے گھر بہ گھر ہیں نیوگ کے چرچے نہ حیا ہے نہ شرمساری ہے گو زمانہ میں روشنی پھیلی ان پہ اندھیرا اب بھی طاری ہے کیا کریں وید کا یہی ہے حکم ترک کرنا گناہ گاری ہے آریہ دھرم ہے یہ قرآن کی دشمنی کا وبال بالیقین رائے یہ ہماری ہے بعض آر یہ اپنے تئیں نہایت منصف مزاج ظاہر کر کے کہا کرتے ہیں کہ در حقیقت ہم بھی یب نیوگ کو نہایت ناپاکی کا طریق سمجھتے ہیں اور جیسا کہ لوگ خیال کرتے ہیں ہم دیانند کی ساری باتوں کے پیرو نہیں یہ صرف دیانند کا خیال ہے اور وید مقدس کا دامن اس سے پاک ہے۔ بھلا یہ ممکن ہے کہ کوئی بھلا مانس ایسی گندی حرکت کرے۔ اور اگر وید میں یہ گندی تعلیم ہوتی تو بڑے بڑے وڈیاوان کیونکر اس کو مانتے اور نیز اگر وید میں ایسی گندی تعلیم ہوتی تو عمدہ تعلیمیں کیونکر اس میں درج ہو سکتیں سوان صاحبوں کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ دیا نند کی واقفیت آپ لوگوں کی واقفیت سے بہت زیادہ تھی اور وہ بھی آپ لوگوں کی طرح وید کے لئے غیرت رکھتا تھا۔ پس اگر وید میں یہ مسئلہ یقینی اور واقعی طور پر نہ ہوتا تو وہ دانستہ ایسا کلنگ وید پر ہرگز نہ لگاتا ۔ بلکہ اگر اس کیلئے ممکن ہوتا تو وہ آپ لوگوں سے ہزار حصہ زیادہ کوشش کرتا کہ تا یہ گندی تعلیم وید کی ظاہر نہ ہو اب خود سوچنا چاہئے کہ دیانند کو کیا کچھ مشکلات پیش آئے اور خدا جانے کس قدر صراحت سے اور کھلے کھلے طور پر نیوگ کی تعلیم اُس نے وید میں دیکھی جس کو وہ کسی حیلہ اور تدبیر سے چھپا نہ سکا آخر اس کو اقرار کرنا ہی پڑا اور اس بات پر جم گیا کہ خیر نیوگ میں کچھ مضائقہ نہیں