آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 550

آریہ دھرم — Page 76

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۷۶ آریہ دھرم زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں جس کو دیکھو وہی شکاری ہے لائق سوختن ہیں ان کے مرد اُن کی ناری ہر ایک ناری ہے واہ وا کیا دھرم ہے کیا ایمان جس میں واجب حرام کاری ہے آریو ! دل میں غور سے سوچو شرم و غیرت کہاں تمہاری ہے جس کو کہتے ہیں آریوں میں نیوگ ناک کے کاٹنے کی آری ہے کچھ نہیں سوچتے یہ دشمن شرم مرتکب اس کا ہے بڑا دیوث مانگنا نطفه غیر مردوں سے غیر کے ساتھ جو کہ سوتی ہے کہ یہ پوشیدہ ایک یاری ہے اعتقاد اس پہ بد شعاری ہے سخت خبث اور نابکاری ہے وہ نہ بیوی زن بزاری ہے ہے وہ چنڈال دشٹ اور پاپی جفت اس کی کوئی چماری ہے ہیں کروڑوں نیوگ کے بچے آریہ دیس میں یہ خواری ہے ایسی اولاد پر خدا کی مار یہ نہ اولاد قہر باری ہے نام اولاد کے حصول کا ہے ساری شہوت کی بیقراری ہے بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط یار کی اس کو آہ و زاری ہے دس سے کروا چکی زنا لیکن پاک دامن ابھی بچاری ہے لالہ صاحب بھی کیسے احمق ہیں ان کی لالی نے عقل ماری ہے گھر میں لاتے ہیں اس کے یارونکو ایسی جورو کی پاسداری ہے اس کے یاروں کو دیکھنے کے لئے سر بازار ان کی باری ہے جورو جی پر فدا ہیں یہ جی سے وه نیوگی پہ اپنے واری ہے شرم و غیرت ذرا نہیں باقی کس قدر ان میں بُردباری ہے ہے قوی مرد کی تلاش انہیں خوب جورو کی حق گذاری ہے