اَربعین — Page 476
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۷۶ اربعین نمبر ۴ خدا کے کلام میں کسی کو کہا جاتا ہے کہ وہ ضرور مر جائے گا تو وہاں بھی یہ لفظ بول کر ماضی سے استقبال کا کام لیتے ہیں یعنی اگر چہ وہ موت ابھی وقوع میں نہیں آئی تاہم اس کا واقع ہونا ایسا یقینی ہے کہ گویا وہ مر گیا ہے یا مرا ہوا ہے۔ اور اس قسم کے محاورے ہر زبان میں ہوتے ہیں۔ عبرانی بائبل میں اور بھی کئی جگہ اس طرح سے کہا گیا ہے ۔ مثلاً ۲ - سلاطین ۔ باب ۲۰ - آیت ا۔ انہی دنوں میں حز قیاہ کو موت کی بیماری ہوئی۔ تب اموس کا بیٹا یسعیا اس پاس آیا اور اسے کہا:- خداوند یوں فرماتا ہے۔ تو اپنے گھر کی بابت وصیت کر ( 1 MAN - کی میت اتاه و لو تحی یاه ) کیونکہ تو مر جائے گا اور نہیں جیئے گا ۔ دیکھو اسی لفظ میت کے معنے جو کہ استثناء ۱۸:۱۸ میں آیا ہے ۔ یہاں مر جائے گا کے معنے کئے گئے ہیں۔ خروج باب ۱۱- آیت ۵(ומת כל בכור בארץ מצרים وميت كول بكور بارض مصرائم) اور زمین مصر میں سارے پلو ٹھے مرجائیں گے۔ ۱- سلاطین ۱۲:۱۴ ۔ اور جب تیرا قدم شہر میں داخل ہوگا تو ( 77 میت ھیالید ) وہ بچہ مر جائے گا۔ بر میاه ۱۵:۲۸ - تب یرمیاہ نبی نے حننیاہ نبی سے کہا کہ اے مننیاہ اب سن خداوند نے تجھے نہیں بھیجا پر تو اس قوم کو جھوٹ کہہ کہہ کے امیدوار کرتا ہے۔ اس لئے خداوند یوں کہتا ہے کہ دیکھ میں تجھے روئے زمین پر سے خارج کروں گا (717 ND ANX - هشـــــنـــاه اقـــاه میت ) تو اسی سال میں مرے گا چنانچہ اسی سال ساتویں مہینے جنیاہ نبی مر گیا۔