انجام آتھم — Page 60
روحانی خزائن جلد ۱۱ ۶۰ رساله دعوت قوم نظر الله الیک معطرًا۔ وَقَالُوا أَتَجْعَلُ فيها من يفسد فيها قال خدا نے تیرے پر خوشبودار نظر کی اور لوگوں نے دلوں میں کہا کہ اے خدا کیا تو ایسے مفسد کو اپنا خلیفہ بنائے گا انى اعلم مالا تعلمون۔ وقالوا كتاب ممتلى من الكفر و خدا نے کہا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں تمہیں معلوم نہیں۔ اور لوگوں نے کہا کہ یہ کتاب کفر اور کذب سے بھری الكذب۔ قل تعالوا نَدْعُ ابناءنا وابناء كُم وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَ كُم وَ ہوئی ہے ان کو کہہ دے کہ آؤ ہم اور تم اپنے بیٹوں اور عورتوں اور عزیزوں سمیت ایک انفُسَنَا وَانفُسَكُم ثم نبتهل فنجعل لعنة الله على الكاذبين۔ جگہ اکٹھے ہوں پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر لعنت بھیجیں سلام على ابراهيم صافيناه وَنَجِّيناه من الغم۔ تفردنا بذالك ابراہیم یعنی اس عاجز پر سلام ہم نے اس سے دلی دوستی کی اور غم سے نجات دی۔ یہ ہمارا ہی کام تھا جو ہم نے کیا۔ يا داؤد عامل بالنّاس رفقا واحسانًا ۔ تموت وانا راض منك اے داؤ دلوگوں سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاملہ کرے تو اس حالت میں مرے گا کہ میں تجھ سے راضی ہوں گا۔ والله يعصمك من الناس۔ كذبوا باياتي و كانوا بها يستهزءون۔ اور خدا تجھ کو لوگوں کے شر سے بچائے گا۔ انہوں نے میرے نشانوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا فسيكفيكهم الله ويردّها اليك * اَمُرٌ مِن لدنا إِنَّا كُنَّا فاعلين۔ سوخدا ان کیلئے تجھے کفایت کرے گا۔ اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا۔ یہ امر ہماری طرف سے ہے اور ہم ہی کر نیوالے ہیں زوجناكها ۔ الحق من ربك فلا تكونن من الممترين ۔ لا تبديل بعد واپسی کے ہم نے نکاح کر دیا۔ تیرے رب کی طرف سے سچ ہے پس تو شک کرنے والوں سے مت ہو۔ خدا کے حاشيه - شیخ محمد حسین بطالوی کا یہ اعتراض ہے کہ الہام کا یہ فقرہ کہ پردھا الیک خلاف محاورہ ہے۔ کیونکہ رد کا لفظ اس صورت میں آتا ہے کہ ایک چیز اپنے پاس ہو پھر چلی جائے اور پھر واپس آوے۔ لیکن افسوس کہ اس کو بباعث کمی واقفیت علم زبان کے معلوم نہیں کہ یہ لفظ ادنی تعلق کے ساتھ بھی استعمال ہو جاتا ہے۔ اس کی کلام عرب میں ہزاروں مثالیں ہیں جن کے لکھنے کا اس مقام میں موقعہ نہیں چونکہ اس جگہ قرابت قریب تھی اور نزدیک کے رشتہ کے تعلقات نے اپنے پاس کے حکم میں اس کو کیا ہوا تھا۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے ایسا لفظ استعمال کیا جو ان چیزوں کے لئے مستعمل ہوتا ہے جو اپنے پاس سے چلی جائیں اور پھر واپس آویں ۔ ہاں اس جگہ یہ نہایت لطیف اشارہ تھا کہ خدا نے پردھا کا لفظ استعمال کیا تا معلوم ہو کہ اول اس کا اپنے پاس سے بے تعلق لوگوں میں چلے جانا ضروری ہے پھر واپس آنا تقدیر میں ہے فقط ۔ منہ