رسالہ الوصیت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvi of 597

رسالہ الوصیت — Page xxvi

خلافت کے ایک دائمی سِلسلہ کی اپنی <mark>جماعت</mark> میں جاری ہونے کی بشارت بھی <mark>دی</mark>۔حضورؑ نے نہایت واضح الفاظ میں حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کی مثال <mark><mark>دی</mark>ن</mark>ے کے بعد فرمایا:۔’’وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک مَیں نہ جاؤں۔<mark>لی</mark>کن مَیں جب جاؤں گا تو پھر <mark>خدا</mark> <mark>اس</mark> دوسری قدرت کو تمہارے <mark>لئے</mark> بھیج <mark>دے</mark> گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔‘‘ (الوصیت۔روحانی خزائن جلد نمبر۲۰ صفحہ ۳۰۵) ۲۔<mark>اس</mark> رسالہ میں حضور ع<mark>لی</mark>ہ السلام نے الٰہی منشاء کے ماتحت اشاعتِ <mark>اس</mark>لام اور تب<mark>لی</mark>غ احکام قرآ ن کے مقاصد کے <mark>لئے</mark> ایک دائمی اور مستقل اور روز افزوں نظام کے قیام کا اعلان فرمایا ہے جو نظام الوصیت کے نام سے مشہور ہے۔اور یہی آئندہ <mark>دنیا</mark> کے مختلف اقتصا<mark>دی</mark> نظاموں میں ’’نظامِ نو‘‘ ثابت ہو گا۔جس کی رُو سے اشاعتِ <mark>اس</mark>لام کی خاطر ہر وصیت کرنے والے کو اپنی آمد اور جائیداد کا کم از کم ۱۰۔۱ حصہ سِلسلہ کو <mark><mark>دی</mark>ن</mark>ا ہو گا۔وصیت کنندہ کا ذاتی طور پر متقی، محرمات سے پرہیز کرنا اور شرک و بدعت سے مجتنب اور سچا اور صاف ہونا بھی شرط ہے۔حضور ع<mark>لی</mark>ہ السلام نے الٰہی منشاء کے تحت ایسے وصیت کرنے والوں کے <mark>لئے</mark> ایک <mark>مقبرہ</mark> تجویز فرمایااور فرمایا:۔’’مَیں <mark>دعا</mark> کرتا ہوں کہ <mark>خدا</mark> <mark>اِس</mark> میں <mark>برکت</mark> <mark>دے</mark> اور <mark>اِس</mark>ی کو <mark>بہشتی</mark> <mark>مقبرہ</mark> بنا<mark>دے</mark> اور یہ <mark>اس</mark> <mark>جماعت</mark> کے <mark>پاک</mark> <mark>دل</mark> <mark>لوگوں</mark> کی خواب گاہ ہو <mark>جنہوں</mark> نے <mark>درحقیقت</mark> <mark><mark>دی</mark>ن</mark> کو <mark>دنیا</mark> پر <mark>مقدّم</mark> کر <mark>لی</mark>ااور<mark>دنیا</mark> کی <mark>محبت</mark> <mark>چھوڑ</mark> <mark>دی</mark> اور <mark>خدا</mark> کے <mark>لئے</mark> ہو <mark>گئے</mark> اور <mark>پاک</mark> تب<mark>دی</mark><mark>لی</mark> <mark>اپنے</mark> <mark>اندر</mark> <mark>پیدا</mark> کر <mark>لی</mark> اور <mark>رسول</mark> اﷲ ص<mark>لی</mark> اﷲ ع<mark>لی</mark>ہ وسلم کے اصحاب کی طرح وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھلایا۔آمین یا ربّ العالمین‘‘ (رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد ۲۰ ، صفحہ ۳۱۶ ) الوصیۃ کے رسالہ کے ساتھ ایک ضمیمہ بھی شامل ہے جس میں وصیت اور <mark>بہشتی</mark> <mark>مقبرہ</mark> میں دفن ہونے کے تفصی<mark>لی</mark> قواعد خود حضور ع<mark>لی</mark>ہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے درج ہیں۔اور آخر میں صدر انجمن احم<mark>دی</mark>ہ قا<mark>دی</mark>ان کے اجل<mark>اس</mark> اوّل منعقدہ ۲۹؍ جنوری ۱۹۰۶ء کی روئیداد بھی درج ہے جو نظام الوصیت کے متعلق ہی ہے۔