اَلھُدٰی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 490 of 822

اَلھُدٰی — Page 490

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۸۶ نزول المسيح ۱۰۸ اور روز جزا اور بہشت اور دوزخ سب سچ ہے کیونکہ اگر چہ قصہ اور نقل کے طور پر تمام اہل اسلام اس بات کو مانتے ہیں کہ خدا موجود ہے اور اس کا رسول برحق مگر یہ ایمان کوئی یقینی بنیاد نہیں رکھتا اس لئے ایسے ضعیف ایمان کے ذریعہ سے یقینی رنگ کے آثار ظاہر ہونا اور گناہ سے سچی نفرت کرنا غیر ممکن ہے اور بوجہ اس کے کہ اسلام پر تیرہ سو برس گذر گئے تمام معجزات گزشتہ برنگ نقول اور قصص ہو گئے ہیں اور قرآن شریف اگر چہ عظیم الشان معجزہ ہے مگر ایک کامل کے وجود کو چاہتا ہے کہ جو قرآن کے اعجازی جواہر پر مطلع ہو اور وہ اس تلوار کی طرح ہے جو درحقیقت بے نظیر ہے لیکن اپنا جو ہر دکھلانے میں ایک خاص دست و بازو کی محتاج ہے۔ اس پر دلیل شاہد یہ آیت ہے کہ لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ پس وہ نا پاکوں کے دلوں پر معجزہ کے طور پر اثر نہیں کر سکتا بجز اس کے کہ اس کا اثر دکھلانے والا بھی قوم میں ایک موجود ہو اور وہ وہی ہوگا جس کو یقینی طور پر نبیوں کی طرح خدا تعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ نصیب ہوگا ۔ غرض تمام برکات اور یقین کے حصول کا ذریعہ خدا کا مکالمہ اور مخاطبہ ہے اور انسان کی یہ زندگی جو شکوک اور شبہات سے بھری ہوئی ہے بجز مکالمات الہیہ کے سرچشمہ صافیہ کے یقین تک ہرگز نہیں پہنچ سکتی مگر خدا تعالیٰ کا وہ مکالمہ یقین تک پہنچاتا ہے جو یقینی اور قطعی ہو جس پر ایک ملہم قسم کھا کر کہہ سکتا ہے کہ وہ اسی رنگ کا مکالمہ ہے جس رنگ کا مکالمہ آدم سے ہوا اور پھر شیث سے ہوا اور پھر نوح سے ہوا اور پھر ابراہیم سے اور پھر اسحاق سے اور پھر اسماعیل سے اور پھر یعقوب سے ہوا اور پھر یوسف سے اور پھر چار سو برس کے بعد موسیٰ سے اور پھر یسوع بن نون سے ہوا اور پھر داؤد سے ہوا اور سلیمان سے اور السیع نبی سے اور دانیال سے اور اسرائیلی سلسلہ کے آخر میں عیسی بن مریم سے ہوا اور سب سے اتم اور اکمل طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔ لیکن اگر کوئی کلام یقین کے مرتبہ سے کمتر ہو تو وہ شیطانی کلام ہے نہ ربّانی۔ کیونکہ تم جانتے ہو کہ جب آفتاب طلوع کرتا ہے اور اپنی کرنیں زمین پر چھوڑتا ہے تو اس کی روشنی ایسی صاف دنیا پر پڑتی ہے کہ کسی دیکھنے والے کو اس کے نکلنے میں شک ا الواقعة : ٨٠