اَلھُدٰی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 454 of 822

اَلھُدٰی — Page 454

روحانی خزائن جلد ۱۸ لده۔ نزول المسيح ۷۲ ایک سو روپیہ انعام دیا جائے گا ان کا اختیار ہے کہ یہ انعام کسی بینک میں پہلے جمع کرا دیں۔ اب بالخصوص میاں مہر علی صاحب کو اس مقابلہ سے بالکل نہیں ڈرنا چاہیے کیونکہ ان کو معلوم ہو گیا ہے کہ سرقہ کے ذریعہ سے نظم اور نثر طیار ہو سکتی ہے تو گویا اب ان کو اس کام کی گل ہاتھ آگئی ہے سواب یقین ہے کہ اس کل کی وجہ سے ان کی تمام بز دلی دور ہو جائے گی بلکہ وہ اس لائق بھی ہو جائیں گے کہ بالمقابل حوصلہ کر کے کسی سورۃ کی تفسیر بھی لکھ سکیں کیونکہ اب تو بات بقیه حاشیه اب ہم اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ در حقیقت پیر مہر علی صاحب نے اپنی کتاب سیف چشتیائی میں جس کو در حقیقت طنبور چشتیا ئی کہنا چاہیے اپنی طرف سے اور اپنے دماغ سے کام لے کر کچھ نہیں لکھا بلکہ اس میں تمام و کمال چوری کا سرمایہ جمع کر دیا اور چوری بھی مردہ کے مال کی جو ہر طرح قابل رحم تھا مفصلہ ذیل ثبوت پیش کرتے ہیں۔ نقل خط میاں شہاب الدین ساکن بھیں پہلے ہم صفائی بیان کے لئے لکھنا چاہتے ہیں کہ میاں شہاب الدین جن کا نام عنوان میں درج ہے۔ ی محمد حسن متوفی کے دوست ہیں اور علاوہ اس کے یہ اس بد قسمت وفات یافتہ کے ہمسایہ بھی ہیں اور اس کے اسرار سے واقف اور انہیں کی کوشش سے پیر مہر علی شاہ کے سرقہ کا مقدمہ برآمد ہوا اور بڑی صفائی سے ثابت ہو گیا کہ اس کی کتاب سیف چشتیائی مال مسروقہ ہے اور اس میں مہر علی کی عقل اور علم کا کچھ بھی دخل نہیں اور بجز اس کے کہ وہ اس کارروائی سے نہ صرف جرم سرقہ کا مرتکب ہوا بلکہ اُس نے اس شیخنی کو حاصل کرنے کے لئے بہت قابل شرم جھوٹ بولا اور اپنی کتاب سیف چشتیائی میں اُس مردہ بد قسمت کا نام تک نہیں لیا اور بڑے زور اور دعوئی سے کہا کہ اس کتاب کا میں مؤلف ہوں چنا نچہ نقل خطوط یہ ہے۔ پہلے خط کی نقل مرسل یزدانی و مامور رحمانی حضرت اقدس جناب مرزا جی صاحب دام بركاتكم و فيوضكم