اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 146
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۴۶ دعا امة من ههنا ثم ههنا ۹۵ فقال سويداء القلوب لها لبي يؤثر في اتباعه ما يقوله ۹۶ ويكثرهم يوما فيوما ولا يكبى ويحمده من شط منه ومن دنا ۹۷ سوى من يرى في الدين غير اولی الارب وكم من كبير القوم اصغى وانما ۹۸ حذارًا على الدنيا نأى عنه بالجنب فلم يبق الا من تعدى بجهله ۹۹ يمارى مراء عن غوايته يُنبي اذا قيل برز و اختبره مناظرا ١٠٠ يفرويهذي بالوقاحة والجهب واكبر من أغراه نشوة جهله ۱۰۱ بانكاره من يدعى العلم عن كذب يميل الى الطاغوت طورًا وتارة ۱۰۲ الى الرفض ثم الى النيجر الكفر كالص ومتبع طورًا و وقتًا مقلد ١٠٣ وعبد النصارى مرة ناصرا لصلب تـزبــا بــزى الكفر يشرى به الهدى ۱۰۴ ويبغى رضى الكفار في سخط الرب ۹۵۔ اس نے قوم کو ہر سمت سے آواز دی جسے سن کر سویدائے دل نے کہا کہ اسے مان ہی لو۔ ۹۶ ۔ آپکا کلام معجز نظام پیروؤں کے دلوں میں پوری تاثیر کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ انہیں روز افزوں ترقی نصیب ہو رہی ہے۔ تنزل نہیں ۔ ۹۷۔ سب ہی نزدیک و دور آپ کی مدح سرائی کرتے ہیں ۔ سوائے اس بد قسمت کے جسے دین سے کوئی غرض واسطہ نہ ہو۔ ۹۸ ۔ بڑے بڑے سرداران قوم کو آپکی باتیں دل میں لگ جاتی ہیں۔ مگر پھر دنیا سے ڈر کر آپ سے الگ ہو جاتے ہیں۔ ۹۹۔ اب سوائے جاہل بے اندام کے اور کوئی نہیں رہا جو ناحق کے جھگڑوں سے اپنی گمراہی کا ثبوت دیتا ہے۔ ۱۰۰۔ جب اسے کہو میدان میں نکل اور مناظرہ کر کے حضرت مثیل کو آزما لے تو نوک دم بھاگتا اور نا گفتنی با تیں منہ پر لاتا ہے۔ ۱۰۱۔ اور سب سے بڑھ کر ایک جاہل ہے جو نادانی کے نشے میں چور ہو کر انکار پر کھڑا اور علم کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے۔ ۱۰۲۔ کبھی تو وہ پاگل آدمی کی طرح طاغوت کی طرف جھک پڑتا ہے۔ کبھی رافضی بن جاتا اور کبھی فرقہ ضالہ نیچریہ کا پہلو اختیار کر لیتا ہے۔ ۱۰۳ ا۔ وہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا رہتا ہے۔ کبھی ادھر کبھی اُدھر کبھی کبھی نصاری کا غلام صلیب کا حام وہ بن جاتا ہے۔ ۱۰۴۔ کفر کا لباس پہن کر دین کو بیچتا ہے اور اپنے مولا کی ناراضی میں کفار کو خوش کرنا چاہتا ہے۔ وہ کلام بے اثر نہیں ہوتا یقال كَبَا وَ اَكْبَى الزَّنْدُ أَى لَمْ يُورُ - ( شمس ) أَوْ كَالضَّب - (شمس) حامی بھی