اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 118

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۱۸ مباحثہ لدھیانہ ہو سکتی ہے کہ اگر کوئی اس جگہ مخالف ہوتا تو ضرور اپنا خلاف ظاہر کرتا اور اس اجماع کا نام اجماع سکوتی ہے اور اس میں یہ ضروری ہے کہ کل کا اتفاق ہے ۔ مگر بعض سب کے اتفاق کو ضروری نہیں سمجھتے تا من شش کی حدیث کا مورد باقی رہے اور حدیث باطل نہ ہو جائے اور بعض اس طرف گئے ہیں کہ مجتہدین کا ہونا ضروری شرط نہیں بلکہ انعقاد اجماع کیلئے عوام کا قول کافی ہے جیسا کہ باقلانی کا یہی مذہب ہے اور بعض کے نزدیک اجماع کیلئے یہ ضروری شرط ہے کہ اجماع صحابہ کا ہو نہ کسی اور کا۔ اور بعض کے نزدیک اجماع وہی ہے جو عترت یعنی اہل قرابت رسول اللہ کا اجماع ہو۔ اور بعض کے نزدیک یہ لازم شرط ہے کہ اجماع کرنے والے خاص مدینہ کے رہنے والے ہوں ۔ اور بعض کے نزدیک تحقیق اجماع کیلئے یہ شرط ہے کہ اجماع کا زمانہ گذر جائے ۔ چنانچہ شافعی کے نزدیک یہ شرط ضروری ہے وہ کہتا ہے کہ اجماع تب متحقق ہوگا کہ اجماع کے زمانہ کی صف پیٹی جائے اور وہ تمام لوگ مرجائیں جنہوں نے اجماع کیا تھا اور جب تک وہ سب نہ مریں تب تک اجماع صحیح نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے قول سے رجوع کرے اور یہ ثابت ہونا ضروری ہے کہ کسی نے اپنے قول سے رجوع تو نہیں کیا اور نقل اجماع پر بھی اجماع چاہئے ۔ یعنی جو لوگ کسی امر کے بارہ میں اجماع کے قائل ہیں ان میں بھی اجماع ہو اور اجماع لاحق مع اختلاف سابق جائز ہے یعنی اگر ایک امر پہلے لوگوں نے اجماع نہ کیا اور پھر کسی دوسرے زمانہ میں اجماع ہو گیا ہو تو وہ اجماع بھی معتبر ہے اور بہتر اجماع میں یہ ہے کہ ہر زمانہ اس کا سلسلہ چلا جائے اور بعض معتزلہ کا قول ہے کہ اتفاق اکثر سے بھی اجماع ہو سکتا ہے بدلیل من شذ شذ في النار اور بعض نے کہا ہے کہ اجماع کوئی چیز نہیں اور اپنی جمیع شرائط کے ساتھ محقق نہیں ہو سکتا۔ دیکھو کتب اصول فقہ ائمہ اربعہ۔ اب اس تمام تقریر سے ظاہر ہے کہ علماء کا اس تعریف اجماع پر بھی اجماع نہیں اور انکار اور تسلیم کے دونوں دروازے کھلے ہوئے ہیں لہذا میں نے جب بعض اقوال کے ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر بلا شبہ اجماع سکوتی کا ثبوت دے دیا ہے ۔ ابوسعید نے ہرگز ہرگز ابن صیاد کے دجال ہونے سے انکار نہیں کیا ایک امر کا کسی پر مشتبہ ہونا اور چیز ہے اور انکار اور چیز ہے تمیم داری کا بھی انکار ثابت نہیں کیونکہ تمیم داری نے گر جا والے دجال کی نسبت اپنا یقین ظاہر نہیں کیا صرف ایک خبر سنادی اور بحجر دخبر سنانے کے انکار لازم نہیں آتا اور وہ خبر جرح سے خالی بھی نہیں کیونکہ تمیم داری کہتا ہے کہ اس دجال نے غیب کی باتیں اور آئندہ میں ظاہر ہونے والی پیشگوئیاں کھلے کھلے طور پر سنائیں