اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 117
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۱۷ مباحثہ لدھیانہ هو التكلم منهم بما يوجب الاتفاق بان يقولوا اجمعنا على هذا ان كان ذلك ۱۱۵ الشيء من باب القول او شروعهم في الفعل ان كان ذالك الشيء من باب الفعل والنوع الثانى منه رخصة وهو ان يتكلم او يفعل البعض من المجمعين دون البعض اى يتفق بعضهم على قول او فعل ويسكت الباقون منهم ولا يردون عليهم الى ثلثة ايام اوالى مدة يعلم عادة انه لو كان هناک مخالف لاظهر الخلاف ويسمى هذا اجماعا سكوتيا و لابد فيه من اتفاق الكل خلافا للبعض وتمسكا بحديث رسول الله صلى الله عليه و سلم و ذهب بعضهم الى كفاية قول العوام في انعقاد الاجماع كالباقلانی و كون المجمعين من الصحابة او من العترة لا يشترط وقال بعضهم لا اجماع الاللصحابة وبعضهم حصر الاجماع فى اهل قرابة رسول الله و عند البعض كونهم من اهل المدينة يعنى مدينة رسول الله شرط ضروری و عند بعضهم انقراض عصرهم شرط لتحقق الاجماع وقال الشافعي يشترط فيه انقراض العصر وفوت جميع المجتهدين فلايكون اجماعهم حجة مالم يموتوا لان الرجوع قبله محتمل ومع الاحتمال لا يثبت الاستقراء ولا بد لنقل الاجماع من الاجماع والاجماع اللاحق جائز مع الاختلاف السابق والاولى في الاجماع ان يبقى في كل عصر وقال بعض المعتزلة ينعقد الاجماع باتفاق الاكثر بدليل من شذ شذ في النار ۔ قال بعضهم ان الاجماع ليس بشيء ولا يتحقق لجمع شرائط یعنی اجماع اس اتفاق کا نام ہے جو امت محمدیہ کے مجتہدین صالحین میں زمانہ واحد میں پیدا ہوا اور بہتر تو یہ ہے کہ ہر زمانہ میں پایا جائے اور جس امر پر اتفاق ہو برابر ہے کہ وہ امر قولی ہو یا فعلی ۔ اور اجماع کی دو نوع ہیں ایک وہ ہے جس کو عزیمت کہتے ہیں اور عزیمت اس بات کا نام ہے کہ اجماع کر نیوالے صریح تکلم سے اپنے اجماع کا اقرار کریں کہ ہم اس قول یا فعل پر متفق ہو گئے لیکن فعل میں شرط ہے کہ اس فعل کا کرنا بھی وہ شروع کر دیں ۔ دوسری نوع اجماع کی وہ ہے جس کو رخصت کہتے ہیں اور وہ اس بات کا نام ہے کہ اگر اجماع کسی قول پر ہے تو بعض اپنے اتفاق کو زبان سے ظاہر کریں اور بعض چپ رہیں اور اگر اجماع کسی فعل پر ہے تو بعض اسی فعل کا کرنا شروع کر دیں اور بعض فعلی مخالفت سے دستکش رہیں ۔ گو اس فعل کو بھی نہ کریں اور تین دن تک اپنی مخالفت قول یا فعل سے ظاہر نہ کریں یا اس مدت تک مخالفت ظاہر نہ کریں جو عادتاً اس بات کے سمجھنے کیلئے دلیل