اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 283 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 283

روحانی خزائن جلد ۲۸۳ الحق مباحثہ دہلی بما اولن اولم اوليس اولا مفيدة للعموم - والنكرة المنفية ادلّ على العموم منها ۱۵۳ اذا كانت في سباق النفي - والصفى الهندى قدم النكرة على الكل يعني على كل صيغة العام اور طرق قصر سے طریق نفی و استثناء بھی اس میں موجود ہے جو ایک مسئلہ علم بلاغت کا ہے۔ پس ایسے لفظ عام کو جس میں اس قدر عموم در عموم مراد الہی ہے ایک شرذمہ قلیلہ اہل کتاب کے ساتھ بلا وجود تخصص کے مخصوص کرنا کوئی وجہ نہیں رکھتا اگر یہ عموم مراد الہی نہ ہوتا تو کلام مجید جو بلاغت میں حد اعلیٰ اعجاز کو پہنچ گیا ہے ایسے خاص معنے و مراد کو ایسے الفاظ عامہ سے بیان نہ فرماتا اور ابو مالک کے قول کی توجیہ جو جناب فرماتے ہیں وہ مصداق ہے توجيه الـقـول بـمـالا يرضى به قائله کے۔ کیونکہ الفاظ قول ابو مالک کے یہ ہیں ذلک عند نزول عيسى بن مريم عليه السلام لا يبقــى احــد مـن اهل الكتب الا امن به ۔ اس قول میں تو تصریح ہے۔ عند نزول کی یعنے نزدیک وقت نزول کے جملہ اہل کتاب ایمان لے آئیں گے۔ جناب ذرہ غور سے ملاحظہ فرماویں۔ قوله حاصل میری کلام کا یہ ہے ان اقول جب کہ آیت سے جناب کے نزدیک یہ نہیں ثابت ہوتا کہ مسیح کے نزول کے بعد فوراً سب اہل کتاب ایمان لے آویں گے تو پھر یہ قول ابو مالک کا آپ نے واسطے احتجاج اپنے مدعا کے کیوں نقل فرمایا ہے۔کہ ذلک عند نزول عیسی بن مريم عليه السلام اور ایسے زمانہ کا آنا جس میں بسیط الارض پر کوئی کافر نہ رہے آیات بینات قرآن مجید کی جو سابق مذکور ہوئیں اس کو رد کر رہی ہیں قوله دوم یہ کہ الخ اقول جب کہ ایمان سے مراد ایمان شرعی نہیں بلکہ یقین مراد ہے تو پھر کہاں گیا وہ دعویٰ کہ جملہ اہل ملل و نحل عیسی بن مریم کے وقت میں اسلام میں داخل ہو جاویں گے اور دفع تعارض جو کیا کرتے ہیں تو ایسی وجوہ سے کہ مناقض مدعا نہ ہوں وہ کیا دفع تعارض ہوا کہ جس سے اور مفاسد دیگر پیدا ہو جاویں دفع تعارض کے واسطے آپ کہاں سے کہاں چلے جاتے ہیں ذرہ غور کر کر دفع تعارض فرمایا کیجئے قولہ جس زمانہ کے لئے یہ حضر کیا گیا ہے الخ ۔ اقول مولانا بحث تو اس میں ہے کہ جو لفظ ایسا عام ہو کہ جس کا عموم کئی وجوہ سے بیان کیا گیا ہو۔ کما مربیانہ وہ عام تمام اپنے افراد کو شامل ہوتا ہے جب تک کہ کوئی مخصص اس کا پیدا نہ ہو یہاں پر صرف ایک نون ثقیلہ پیدا ہوا تھا اگر وہ خفیفہ نہ ہو جا تا تو شاید کسی وجہ سے کسی قدر تخصیص حاصل ہو سکتی مگر اس نون ثقیلہ کی کیفیت خفت معلوم ہو چکی تو اب کوئی بھی مخصص باقی نہ رہا۔ پس اندریں صورت تخصیص کی کیا وجہ ہے کہ مراد تو ہوں ایک زمانہ نا معلوم کے اہل کتاب اور ان کو ایسے صیغہ عام در عام سے بیان فرمایا جاوے۔ حصول المامول میں لکھا ہے ولاشک ان الاصل عدم التخصیص پس ایسی تخصیص کی کیا وجہ ہے کہ مخاطب تخصیص کرتے کرتے بھی